Categories
Urdu Articles

ستر و حجاب میں فرق

 
شرعی پردہ دراصل دو پردوں پر مشتمل ہے۔

ایک ہے گھر کے اندر کا پردہ

جس کے بارے میں احکامات سورة النور میں بیان ہوئے ہیں ۔ ان احکامات کو ” احکاماتِ ستر “ کہا جاتا ہے۔

دوسرا ہے گھر کے باہر کا پردہ

جس کے بارے میں احکامات سورةالاحزاب میں وارد ہوئے ہیں اور یہ احکامات” احکاماتِ حجاب “ کہلاتے ہیں۔

ستر و حجاب میں فرق
پردے کے حوالے سے اکثر لوگ ستر اور حجاب میں کوئی فرق نہیں کرتے حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں ان دونوں کے احکامات الگ الگ ہیں ۔
سترجسم کا وہ حصہ ہے جس کا ہر حال میں دوسروں سے چھپا نا فرض ہے ماسوائے زوجین کے یعنی خاوند اور بیوی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔
مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے اور عورت کا ستر ہاتھ پاؤں اور چہرے کی ٹکیہ کے علاوہ پورا جسم ہے ۔ ایک دوسری روا یت کے مطابق عورت کا سارا جسم ستر ہے سوائے چہرے اور ہاتھ کے ۔ البتہ عورت کے لئے عورت کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے ۔ معمول کے حالات میں ایک عورت ستر کا کوئی بھی حصہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں کھول سکتی ۔
ستر کا یہ پردہ ان افراد سے ہے جن کو شریعت نے ” محرم “ قرار دیا ہے۔ ان محرم ا فراد کی فہرست سورة النور آیت ۳۱ میں موجود ہے۔ ستر کے تمام احکامات سورة النور میں بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیلات احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مل جاتی ہیں۔ گھر کے اندر عورت کے لئے پردے کی یہی صورت ہے ۔
البتہ حجاب عورت کا وہ پردہ ہے جسے گھر سے باہر کسی ضرورت کے لئے نکلتے وقت اختیار کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں شریعت کے وہ احکامات ہیں جو اجنبی مردوں سے عورت کے پردے سے متعلق ہیں ۔ حجاب کے یہ احکامات سورة الا حزاب میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کا مفہوم یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت جلباب یعنی بڑی چادر ( یا برقع ) اوڑھے گی تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے اور چہرے پر بھی نقاب ڈالے گی تاکہ سوائے آنکھ کے چہرہ بھی چھپ جائے ۔ گویا حجاب یہ ہے کہ عورت سوائے آنکھ کے باقی پورا جسم چھپائے گی۔

Categories
Urdu Articles

نہيں نہيں ميں ہرگز ايسا نہيں ہونے دوں گا اور ميں اس درخت کو کاٹ کر ہي واپس جاؤں گا

کسی گاؤں ميں ايک بڑا پيپل کا درخت تھا لوگ اس سے بے شمار فائدے اٹھاتے تھے، درخت کي چھال سے دوائيں بناتے اور شہر جاکر بيچتے جس سے انہيں بہت نفع ملتا يہاں تک انہوں نے اس درخت کی پوجا پاٹ شروع کردي، اب يہ درخت شرک کا مرکز بن چکا تھا۔



وقت يوں ہی تيز رفتاری سے گزرہا تھا کہ ايک نيک شخص اس گاؤں ميں آکر رہنے لگے، انہوں نے لوگوں کو اس درخت کي پوجا کرتے ديکھا تو آگ بگولہ ہوگئے ۔



شرک کا پرچار ديکھ کر ان کي آنکھوں ميں خون اتر آيا، غصے سے بے قابو ہوگئے، پھر غصے کي حالت ميں گھر گئے اور گھر سے کلہاڑي اٹھائي اور اس درخت کو کاٹنے کيلئے گھر سے روانہ ہوئے، ابھي وہ راستے ہی ميں تھے کہ اچانک شيطان انسانی روپ ميں ظاہر ہوا اور کہا۔

جناب کدھر جا رہے ہيں؟

اس نيک شخص نے کہا !!!کہ لوگ ايک درخت کو پوجنے لگے ہيں جو شرک ہے، اب اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں ۔

شيطان نے کہا !!!

آپ واپس چلے جائيں اور اپنے کام سے کام رکھيں۔

يہ سن کروہ بھڑک اٹھے اور کہا !!! 

نہيں نہيں ميں ہرگز ايسا نہيں ہونے دوں گا اور ميں اس درخت کو کاٹ کر ہي واپس جاؤں گا، اگرميں يہاں سے واپس چلا گيا تو اللہ تعالی کے سامنے کيا جواب دونگا، ميں تو اسے ضرور کاٹوں گا تاکہ شرک جڑ ہي سے ختم ہوجائے۔

شيطان نے بہت تکرار کي مگر وہ نہ ماننے والے تھے نہ مانے، چنانچہ دونوں مین لڑائی ہو گئی، کچھ دير بعد انہوں نے شيطان کو زير کرليا۔

شيطان نے اب دوسري چال چلی، اس نے کہا اگر تم اس کام کو چھوڑ دو تو ميں اس کے بدلے تمہيں ہر روز چار تولے سونا دونگا، اگر يہ سودا منظور ہے تو بتاؤ؟ شيطان کي يہ چال کامیاب ھوئی، کچھ سوچ کر انہوں نے کہا يہ سونا روزانہ تم مجھ تک ضرور پہنچايا کرنا ورنہ ميں درخت کاٹ دونگا۔

شيطان نے کہا ہاں حضرت آپ کو يہ سونا ہر روز صبح سويرے آپ کے بستر کے نيچے سے مل جائے گا۔

کچھ روز تک يہ چار تولہ سونا اس نيک شخص کو ملتا رہا ليکن ايک روز سونا نہيں ملا انہيں بہت غصہ آيا، پھر کلہاڑي اٹھائي اور درخت کو کاٹنے کي غرض سے نکلے، راستے ميں شيطان پھر ملا اور پوچھا۔

حضرت کہاں جارہے ہيں؟

انہوں نے جواب ديا اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں کيونکہ تم نے چار تولہ سونا دينا بند کرديا ہے۔

شيطان نے درخت کاٹے سے منع کيا، ليکن وہ نہ مانے پھر دونوں کے درميان لڑائي ہوگئي اب کي بار شيطان کو فتح حاصل ہوئي، وہ بہت حيران ہوئے شيطان سے پوچھا پہلے تو ميں نے تمہيں ہرا ديا تھا اور اب کي بار تم نے مجھے کسيے ہراديا؟

شيطان نے مسکراتے ہوئے کہا مياں پہلے تو جو درخت کاٹنے جارہے تھے اس وقت تمہارا مقصد صرف اور صرف اللہ کي خوشنودي تھا، اس وقت تمہاري نيت نيک اور صاف تھي،ليکن اب تمہاري نيت ميں فرق آگيا ہے اور ميرے بہکاوے ميں آگئے ہو۔

اس بار تم مجھ سے اس لئے مات کھاگئے کہ اب تمہارا ارادہ درخت کاٹنا نہیں بلکہ چار تولہ سونا حاصل کرنا ہے، اب تم واپس چلے جاؤ ورنہ تمہاري گردن تن سے جدا کردوں گا۔

يہ سن کر نہايت شرمندگی کی حالت ميں انہيں واپس لوٹنا پڑا۔

آپ کي نيت صيحح ہوگی تو آپ ہر کام ميں کامياب ہوں گے اگر نيت بری ہے تو پھر وہ ہی ہوگا جو اس شخص کے ساتھ ہوا ۔
نيت ہي عمل کي روح ہے جس قدر نيت اللہ تعالیٰ کيلئے خالص ہوگي اسی قدر اللہ تعالیٰ کي مدد اور انعامات زيادہ ہونگے ۔

ہميں بھي چاہئيے جو بھی کام کریں خالص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے جذبے سے کريں ۔"

Categories
Urdu Articles

تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا..؟ “

ایک پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا.. اس نے وہ گلاس بلند کر دیا تاکہ تمام طلبہ اسے دیکھ لیں.. پھر اس نے طالب علموں سے سوال کیا.. " تمھارے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا..؟ " پچاس گرام.. سو گرام.. یا ایک سو پچیس گرام..؟ "


لڑکے اپنے اپنے اندازے سے جواب دینے لگے..



" میں خود صحیح وزن نہیں بتا سکتا جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کر لوں.." پروفیسر نے کہا.. " مگر میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں تو کیا ہوگا..؟ "

" کچھ نہیں ہوگا.. " تمام طالب علموں نے جواب دیا..

" ٹھیک ہے اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یونہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا..؟ "

" آپ کے بازو میں درد شروع ہو جائے گا.. "

" تم نے بلکل ٹھیک کہا.. " پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا.. " اب یہ بتاؤ کہ اس گلاس کو میں دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو کیا ہوگا..؟ "

" آپ کا بازو سن ہو سکتا ہے.. " ایک طالب علم نے کہا..

" آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے.. " دوسرے نے کہا..

" آپ پر فالج کا حملہ ہو نا ہو لیکن آپ کو اسپتال تو لازما" جانا پڑیگا.. " ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری کلاس قہقہے لگانے لگی..

" بہت اچھا.. " پروفیسر نے برا نہ مناتے ہوئے کہا.. " لیکن اس تمام دوران میں کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا..؟ "

" نہیں.. " طالب علموں نے جواب دیا..

" تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا..؟ "

طالب علم سوال سن کر چکرا گئے..

" گلاس کا مسلسل اٹھائے رکھنا..!! " پروفیسر نے کہا.. 

" ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں.. آپ انھیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں.. انھیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ سر کا درد بن جائیں گے.. انھیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کر دیں گے ' آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے..

اپنی زندگی کے چیلنجز کے بارے میں سوچنا یقینا" اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم ہر دن کے اختمام پر سونے سے پہلے انھیں ذہن پر سے اتار دینا ہے.. اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے.. ہر روزصبح آپ تر و تازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہونگے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کر سکیں گے..

لہٰذا گلاس کو نیچے رکھنا یاد رکھیں..!! "

Categories
Urdu Articles

تمہاری کمائی میں اللہ تعالی برکت دے، تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے تو فرق پڑے گا

 
سکول کا وقت ختم ہو چکنے کے بعد وہ جیسے ہی صدر دروازے سے باہر نکلے، ان کے ذہن میں ننھی کا کہا ہوا جملہ گونجنے لگا، ‘ابو جان میرے لیے امرود لائیے گا’ ۔

ان کی نظریں مختلف ریڑھی والوں کی طرف اٹھ گئیں۔ تھوڑی دور ایک پھل فروش ریڑھی لگائے کھڑا تھا۔ وہ اس کے پاس پہنچے اور کہا!

‘کیوں بھئی! امرود میٹھے ہیں، ان کے اندر سنڈیاں تو نہیں ہوں گی’۔

دیکھ لیجیے صاحب! تازہ، صاف اور میٹھے ہیں۔ پھل فروش نے تیزی سے ایک بڑا سا امرود کاٹ کر ہیڈ ماسٹر صاحب کی طرف بٹھاتے ہوئے کہا۔

انہوں نے چکھ کر دیکھا، امرود واقعی میٹھا تھا۔
کتنے تولوں جناب۔ ریڑھی والے نے کہا۔
‘ دو سیر’ جواب ملا۔
پھل فروش نے دو سیر امرود تولے، تھیلے میں ڈالے اور ہیڈ ماسٹر صاحب کے حوالے کیے۔
ہیڈ ماسٹر صاحب نے قیمت ادا کی اور ساتھ تھیلے میں سے دیکھ کر اتنا بڑا امرود نکالا جتنا بڑا وہ چکھنے کے لیے کھا رہے تھے۔
یہ امرود انہوں نے ریڑھی فروش کی ریڑھی پر رکھ دیا۔
واپس کیوں کیا ہے صاحب؟ ریڑھی والے نے حیرانی سے کہا۔
تم اتنا بڑا امرود پہلے ہی مجھے چکھنے کے لیے دے چکے ہو۔ چونکہ وہ تول میں شامل نہیں ہوا تھا اس لیے اس کی بجائے یہ امرود تمہارا ہے۔
ہیڈ ماسٹر نے وضاحت کی۔
‘صاحب! تقریباً ہر گاہک خریدنے سے پہلے تھوڑا بہت پھل چکھتا ہے اور پھر اس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے۔ پھل فروش بولا۔
‘بھلے آدمی! تمہاری کمائی میں اللہ تعالی برکت دے، تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے تو فرق پڑے گا نا’ ہیڈ ماسٹر صاحب نے جواب دیا۔
‘وہ کیسے جناب’ ؟ پھل فروش نے حیرت سے پوچھا۔
میرے بھائی اللہ کا حکم ہے۔ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم ہے کہ ناپ تول اور قیمت ادا کرنے میں کمی نہ کیا کرو۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اک ذرا سا امرود میرے لیے ہلاکت بن جائے۔ لہذا میری بھلائی اتنا ہی مال لینے میں ہے، جتنے کی میں نے قیمت ادا کی ہے۔ اس لیے مجھے اس سے زیادہ لینے کا کوئی حق نہیں۔ سمجھے؟
ہیڈ ماسٹر صاحب نے وضاحت کی۔ السلام و علیکم کہا اور چل دیے۔ اور امردو فروش حیرت سے ان کی طرف دیکھتا رہ گیا ۔
Categories
Urdu Articles

اے مسلمان تو بھی ایک شیر ہے جسے دنیا کی لذتوں نے بکری بنادیا ہے

 
کسی ملک میں ایک چرواہا تھا ایک دن اس کو جنگل میں شیر کا ایک بچہ ملا تو وہ بڑا پریشان ہوا کہ اس کا کیا کرے ظاہر ہے کہ اس کو اپنے گھر نہیں لیجاسکتا تھا بھیڑ بکریوں پر ہی اس غریب کا گزر بسر تھا شیر کی وحشت سے خوب واقف تھا مگر دل میں رحم آگیا اور شیر کے اس بچے کو اپنے ساتھ لے آیا اور اس کی پرورش کرنے لگا شیر کا یہ بچہ آہستہ آہستہ بڑا ہورہا تھا مگر اس کو شکار کرنا نہیں آتا تھا بلکہ بھیڑ بکریاں اس سے جارحانہ رویہ اپنائے رکھتے اور یہ غریب ان کی مار تک بھی برداشت کر جاتا جنگل میں موجود ایک بھیڑئیے نے جب یہ منظر دیکھا تو خوش ہوگیا کہ یہ شیر جس کے ڈر کی وجہ سے میں ان بکریوں کا شکار نہیں کررہا تھا یہ شیر تو خود بھیڑ بنا ہوا ہے-

غرض یہ کہ اس بھیڑئیے نے ایک دن ہمت کر ہی لی اور ایک بکری پر حملہ کردیا اس بکری کے پیچھے جب یہ بھیڑیا دوڑ رہا تھا تو شیر باقی بکریوں کی طرح دور کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا مگر جب اس نے اس بکری کی بے بسی ، اور اس کے خوف کو دیکھا تو ایک دم اس کے اندر کے شیر کی سوئی ہوئی جبلت جاگ اٹھی اس نے اس زور سے دھاڑ ماری کہ بھیڑیا لرز اٹھا اور پھر شیر نے اس کو حملہ کرکے بھگا دیا-

اے مسلمان تو بھی ایک شیر ہے جسے دنیا کی لذتوں نے بکری بنادیا ہے اور آج یہ کافر بھیڑیے تجھ کو بھی بکری سمجھ کر تجھ سے پیش آرہے ہیں تو کب تک غفلت میں پڑا رہے گا اور وہ وقت کب آئے گا جب تو اپنے اندر کے شیر کو بیدار کرے گا
دل خون کے آنسو روتا ہے اس بات کو سوچ سوچ کر کہ اس مسلمان سے کافر کب سے کھیل رہے ہیں مگر اس کی جبلت میں پڑا کلمہ اس کو بیدار ہی نہیں کرتا-
یاد رہے لا الہ الا اللہ کا مطلب یہی ہے کہ کوئی معبود نہیں کوئی بڑا نہیں کوئی حاکم نہیں سوائے اللہ بزرگ و برتر کے-
آج اس غریب مسلمان کی جان پر ہر کوئی حاکم بنا ہوا ہے-
ہاں یہی مسلمان ہے کہ جس کا قتل عام کیا جاتا ہے جس کی آبرو پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں جس کی بیٹیوں کا کوئی وارث نہیں-
جس کی اجتماعی قبریں دنیا میں پھیلتی جارہی ہیں جس کی پوری پوری بستیوں کو جلا دیا جاتا ہے جس کی مساجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے
میرے بھائیو
اللہ کےلیے اپنے مسلمانوں کی خبر لو
مسلمانوں کی یہ درد سے لبریز اور غم و الم میں ڈوبی پکار آج دنیا کے ہر کونے سے آرہی ہے-
آج ہر مسلمان ان مظلوموں کےلیے جو ھو سکتا وہ کر گزرے ہماری زندگیوں میں لوگ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کے ساتھ مذاق بنا کررہے ہیں بے بس امت مسلمہ اپنے حکمرانوں سے مایوس ہوکر مسلمانوں کو پکار رہی ہے-
{اے مسلم}
اگر تو خود کچھ نہیں کرسکتا تو رب کےلیے ان مظلوم مسلمانوں کے پیغام کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچا دے شاید کوئی نبی کی امت کا وارث اٹھ کھڑا ھو
اس پیغام کو پڑھنے والے آپ اگر کوئی بھی ہیں چاہے آپ فیس بک کے عام یوزر ہیں یا ایڈمن یا آپ میڈیا کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں اس فکر کو پھیلائیے
اس امت کی عزت کےلیے اٹھو-

٭Abbas Muawiya٭