سانحہ آرمی پبلک سکول شہدائے پشاور 500 بچوں کی دوسری برسی بھی گزرگئ ہے یقینا بہت بڑا غم تھا ہر پاکستانی نے محسوس کیا اور ہر پاکستانی کے دل پر یہ واقعہ ایک نقش چھوڑ گیا اور شاید یہ سلسلہ ختم نا ہو ہر سال دسمبر میں اس کی برسی منائی جائے اور مختلف میڈیا کے نمائندے اس اسکو ل جائے حادثہ کا معائنہ کریں اور ہر سال ان شہداء بچوں کے والدین سے مل کر ان کے تاثرات عوام تک پہنچائے جائیں ،بلکل ٹھیک ہے کرنا چھاہیئے واقعی قومی حادثہ تھا جس پر گوگل نے بھی چراغ جلائے دنیا بھر سے تعزیتی میسج قومی ادروں کو موصول ہوئے ۔لیکن کیا حادثہ صرف یہ تھا اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی قصور اسکینڈل وہ حادثہ نہیں تھا پاکستان میں مجموعی طور پر بچے تعلیم سے دور ہیں بچہ چائے کے ڈھابوں پر مکینک کی دوکان پر اور کچرے کا تھیلا اٹھائے در در کی ٹھوکریں کھاتے اپنا رزق کچرے میں تلاش کرتے نظر آتے ییں کیا یہ حادثہ نہیں ہے ؟، یہ معصوم اور پھول جیسے بچے کیا کسی سرکاری توجہ کے مستحق نہیں ہیں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی تو بات ہے جب پاکستان کے چاروں صوبوں میں بچوں کے اغواء کی اطلاعات آتی رہی تقریبا 2000 بچوں کو اغوا کیا گیا اور پتہ نہیں وہ معصوم بچے کن حالات سے گزرے اور گزررہے ہیں زندہ بھی ہیں یا نہیں اللہ ان کے ماں باپ کو حوصلہ عطاء فرماے سرکاری طور پر یہ کہا جاتا رہا کہ یہ افواھ ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن عوام نے ایک بڑی تعداد میں اغواکاروں کو پکڑا، سی سی ٹی وی کیمرا نے اغواکاروں کو اغوا کرتے دیکھایا لیکن حکومت نا مانی اور بالاخر یہ سانحہ یا حادثہ اپنا نام رجیسٹرڈ نا کراسکا اور یوں 2000 بچوں کی تعداد اندھیر نگری کا شکارہوگئی ،بحیثت قوم کے ہر فرد کے ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قومی وسائل کی حفاظت کرے اسے آگ نا لگائے یہاں تک قوانین کی حفاظت بھی ڈندے کے زور پر کرائی جاتی ہے لیکن قوم کے یہ پھول جیسے معصوم بچے کیا قوم کا اجتماعی اثاثہ نہیں ہے کیا صرف مالدار کا بچہ قوم کا اثاثہ غریب کا بچہ قومی اثاثہ نہیں ہے یا جرنیل کا بچہ فوجی کا بچہ ،سیاست دان کا بچہ تو قومی اثاثہ ہے لیکن ایک عام پاکستانی کا بچہ قومی اثاںہ نہیں ہے کیا وہہ اپنے ماں باپ اور پاکستان کا اثاثہ نہیں ہے