گزشتہ دنوں میرے درجہ اولیٰ کے انتہائی محترم شفیق ملنسار استاذ  سے آن لائن بات ہوئی حضرت عالمی سطح کے قادنیت کا تعاقب کرنےوالے اکابرین میں سے ہیں ،حضرت عالمی سطح پر ختم نبوت کا دفاع کرتے ہیں خوبصورت،وجہیہ نہایت ہی نرم دل طلبہ سے بہت محبت کرنے والے ہیں بہت دل خوش ہوا حضرت سے بات کرتے ہوئے بلکل اجنبیت کا احساس نہیں ہوا بلکہ ایسا محسوس ہوا جیسے گھنٹہ پڑھانے کے بعد استاذ محترم نے بلاکر کوئی بات کی ہو، مولانا سہیل باوا فاضل نیوٹاؤن، اللہ نے ان کے ذمہ قادیانیوں کا تعاقب کا کام لگایا ہے اور وہ اس کام کو اپنی پوری خوبی کے ساتھ کررہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ختم الرسل نبی المحتشم سالارکل انسانیت نبی الرحمۃ و نبی الملاحم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات افضل واعلی کی پہرے داری ان کی گھٹی میں ہے اور وہ اپنی اسی محبت اور سر شاری کے عالم میں اپنی خوبصورت جوانی اسی کام پر خرچ کررہے ہیں تو بے جا نا ہوگا
اور کیوں نا ہو حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی وامی کا اس امت پر احسان ہی اتنا بڑا ہے کہ امت کا ہر جوان اپنی جوانی آپ علیہ السلام کی ختم نبوت کی پہرے داری میں گذاردے تو تب بھی کم ہے،
ہر مسلمان اپنے ماں باپ سے بڑا محسن اپنے عظیم خاتم النبین صلی اللہ علیہ کو سمجھتا ہے اور اپنا مال جان آل اولاد کو ان کی عزت و ناموس پر فدا کرنا اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے درجہ اولی میں جب میں اپنی عمر کے ابتدائی حصہ میں تھا سب سے پہلے ختم نبوت کے حوالے استاذ محترم سے ہی سنا تھا حضرت نے کچھ کتابچے اور رسائل بھی عنایت فرمائے تھے اور پورے مدرسہ میں حضرت ختم نبوت کے خادم کے عنوان سے ہی پہچانے جاتے تھے مجھے فخر ہے کہ میں نےاپنی زندگی کا کچھ حصہ خادم ختم نبوت حضرت مولانا سہیل باوا صاحب کی شاگردی میں گزارازندگی میں طلب علمی کی زندگی ہر انسان کی زندگی کا یاد گار ترین حصہ ہوتا ہے جو بھلائے نہیں بھولتا اور اس دوران اگر کوئی شفیق مہربان استاذ ایسا بھی مل جائے جو بے لوث ہو اور روایتی ذمہ داری سے ہٹ کر اپنے طلبہ پر خصوصی توجہ بھی رکھتا ہو اور طلبہ کو کچھ سکھانے اور طلبہ کے سینے میں دین اسلام کا حقیقی غم اتارنے کا جذبہ بھی رکھتا ہو اور اس پر اپنی پوری صلاحیت صرف کرتا ہوتو یہ اس طالب علم کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے اور الحمد للہ مین پورے فخر کے ساتھ یہ سطور لکھ رہا ہوں کہ اللہ ان تمام خوبیوں سے متصف استاذ مولانا سہیل باوامد ظلہ کی صورت میں مجھے عطا فرمایا استاذ المحترم سے صرف ایک سال ہی پڑھنے کا موقع ملا اور اس کے بعد الللہ نے استاذ المحترم کو عالمی ذمہ داریا عنایت کی اور یوں مولانا سہیل باوا صاحب مرکز ختم نبوت (عالمی)  لندن تشریف لے گئے اور ہمیں شرف تلمذ اور سر پرستی سے محروم کرگئے آج جب استاذالمحترم سے بات ہوئی تو دوران طالب علمی کے تمام واقعات نظروں میں گھوم گئے اور یہ سطریں لکھ کر ہدیہ قارئیں کررہا ہوں یہ میری ٹوٹی پھوٹی سطریں استاذمحترم کا مقام اور تعارف بیان کرنے میں بلکل ناکام ہیں استاذ محترم کامقام میری ان سطروں سے کہیں آگے اللہ ان کے ان کاوشوں کو قبول فرمائے اورہمیں بھی
ان کے صدقہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا غم عطا فرمائے ۔

استاذ محترم کا ایک معمول یہ تھا کہ  جمعرات کے دن پڑھایانہیں کرتے تھے بلکہ  فرمایا کرتے تھے کہ آج جمرود ہے اور اس دن حضرت قادیانیت کے حوالہ سے ہمارے چھوٹے ذہن اور استعداد کو دیکھتے ہوئے پر مغز باتیں فرمایا کرتے اور یوں ہم نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کچھ کرگزرنے کا سبق بچپن میں سیکھا اللہ استاذ محترم کو بہترین جزا عطا فرمائے