ابن انشاء مرحوم نے اپنی کتاب "اردو کی آخری کتاب" میں نادر شاہ درانی کے ہندوستان پر اس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے بڑے شگفتہ انداز میں تحریر کیا ہے کہ "نادر شاہ نے اپنے مشیروں سے کہا کہ ہم ہندوستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لہذا ہمیں کوئی جواز تلاش کر کے دیا جائے۔" انہوں نے نادر شاہ کو بتایا کہ حملہ کرنے کا کوئی جواز مل نہیں رہا ہیں۔ اس پر ایک سیانے مشیر نے نادر شاہ کو مشورہ دیا "جہاں پناہ ہندوستان پر حملہ کرنے کا چونکہ کوئی جواز ہی نہیں ہے لہذا کیوں نہ اسی بات کو حملہ کرنے کا جواز بنا لیا جائے کہ حملہ کرنے کا جواز موجود کیوں نہیں ہیں؟" نادر شاہ کو تجویز پسند آئی اور وہ اسی جواز کو جواز بنا کر ہندوستان پر حملہ آور ہوگیا۔
اب ذکر ہو جائے آج کے نادر شاہ کا۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ پہلے کیا تھا اور اقوام متحدہ اور نیٹو ممالک سے منظوری بعد میں حاصل کی تھی۔ افغانستان پر حملہ کرنے کا جواز یہ تھا کہ وہاں القاعدہ اور اس کا سربراہ اسامہ بن لادن موجود ہے۔ اور عراق پر حملہ کرنے کا جواز یہ بتایا گیا تھا کہ صدام حسین کے پاس مہلک کیمیائی ہتھیار موجود ہیں حالانکہ یو این او کے انسپکٹر نے انکوائری کر کے رپورٹ اقوام متحدہ میں جمع کروائی تھی کہ ایسے کسی بھی ہتھیار کی موجودگی کے شواہد نہیں مل سکے ہیں۔ لیکن حملہ پھر بھی کر دیا گیا تھا۔
مگر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے شہادت کے بعد، پاکستان میں امریکہ کے جتنے بھی پٹھو موجود ہیں، کیا ان میں سے کوئی بھی پٹھو ہمارے اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ بارہ برس بعد افغانستان اور دس برس سے عراق میں امریکی موجودگی کا جواز کیا ہے؟ ان دونوں ممالک میں امریکہ کی مسلح افواج آخر کیوں بیٹھی ہیں؟ اور افغانوں کے لئے امریکہ سے جنگ کرنے کیلئے کیا یہ جواز کافی نہیں ہے کہ وہ انکی سرزمین پر ناجائز طور پر قابض ہے اور انہیں پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وطن کو غیر ملکی حملہ آور کے قبضے سے چھڑانے کیلئے مسلح جدوجہد کر سکیں۔۔۔۔۔؟؟؟

** حماد احمد نور