تو میں اس فرانسیسی مصور کا قصہ بیان کر رہا تھا جس نے کہا تھا کہ’’ اگر کوئی شخص اپنے اندر تخلیق کے جرثومے رکھتا ہے اور وہ خوش بخت ہو تو وہ اپنے حصے کے بے وقوف پیدا کر لیتا ہے‘‘چنانچہ میں کچھ زیادہ تخلیقی تو نہیں ہوں لیکن محض خوش بخت ہونے کی وجہ سے میں نے بھی اپنے حصے کے بے وقوف پیدا کر لیے ہیں۔۔۔ اور بے وقوف سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ آپ کی فریکوئنسی مل جاتی ہے اور وہ آپ کی تحریر کے شیدائی ہو جاتے ہیں۔۔۔ اور ان میں سے سر فہرست ’’مستنصر حسین تارڑ ریڈرز ورلڈ‘‘ کے اراکین ہیں جنہوں نے یہ ویب سائٹ میری بے خبری میں بنائی اور بہت بعد میں مجھے خبر ہوئی کہ یہ ہزاروں افراد آپس میں رابطہ رکھتے ہیں اور میری تحریروں کو کمپیوٹر پر زیر بحث لاتے ہیں۔۔۔ چند ماہ پیشتر ایک آئی ٹی انجینئر نے میرے حوالے سے ایک نئی ویب سائٹ لانچ کی تو اس کے آغاز کی تقریب میں یہ لوگ ملک بھر سے آئے اور شریک ہوئے۔ یہ ممکن نہ تھا کہ میں کراچی میں ہوتا اور کراچی سے تعلق رکھنے والے ریڈرز ورلڈ کے اراکین مجھ سے ملاقات کے لیے نہ آتے۔۔۔ اس سے پیشتر میں جمیل عباسی اور اس کی بیگم عظمیٰ جمیل کا تذکرہ کر چکا ہوں جو اندرون سندھ سے تقریباً سات گھنٹے سفر کرتے ہوئے کراچی پہنچ گئے تھے۔ ادھر ساہیوال سے سمیرہ انجم اور امریکہ میں مقیم عاکف فرید کراچی میں سب سے رابطہ رکھے ہوئے انہیں ہدایات دے رہے تھے کہ کس طرح میرے آرام کا خیال رکھا جائے اور میری آؤ بھگت کی جائے چنانچہ اس سلسلے میں تہمینہ صابر اور ان کے خاوند صابر صاحب نے اپنے ہاں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں ریڈاز ورلڈ کے درجنوں اراکین نے شرکت کی اور وہ سب ایک خاندان کی مانند تھے، ایک دوسرے کے ساتھ چُہلیں کرتے میری آمد پر مسرت کا اظہار کرتے تھے، مجھ سے میری تحریروں کے بارے میں پوچھتے تھے۔۔۔ ایک روز تہمینہ نے مجھ سے فون کر کے دریافت کیا کہ آپ کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں تو میں نے کہا کہ میں بہت کم خوراک کا عادی ہوں لیکن کراچی آ کر مچھلی زیادہ مرغوب ہو جاتی ہے۔۔۔ تہمینہ کے ہاں مچھلی اتنی وافر اور مختلف اقسام کی تھی کہ اُس پر مچھلی منڈی کا گمان ہوتا تھا۔۔۔ اور اسے مچھلی بنانے کا سلیقہ بھی آتا تھا۔۔۔ مجھے سب لوگوں کے نام تو یاد نہیں آرہے لیکن حجاب پوش تھنک معنک اور خوشگوار معصومہ تھیں۔۔۔ ڈاکٹر نازش کا خوشی دینے والا چہرہ تھا۔۔۔ ہاجرہ ریحان اور ان کے خاوند۔۔۔ بیگم فریال۔۔۔نسریں غوری۔۔۔ عمارہ خان۔۔۔ مریم کاشف، ثوبیہ عثمان موجود تھے اور جب یہ لوگ مجھے ہوٹل چھوڑنے جا رہے تھے تو میں ایک شکر گزاری اور ندامت کی کیفیت میں تھا کہ میری کوئی حیثیت نہ تھی اور ان لوگوں نے مجھے اپنی چاہت سے حیثیت والا بنا دیا۔۔۔ بس یہی تو خوش بختی ہوتی ہے ورنہ ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے۔۔۔ مجھ سے بہت اچھے، بہتر کہنے والے اور اس کے باوجود اتنی ڈھیر ساری محبتیں میرے حصے میں آ گئیں۔ جی ہاں صرف خوش بختی!

کانفرنس کے دوران بے شمار دوستوں نے مجھے اپنی تخلیقات سے نوازا اور مجھے خوشی ہوئی کہ ہمارے ہاں اتنے لوگ سنجیدگی سے ادب تخلیق کر رہے ہیں، میں اُن سب کا شکر گزار ہوں، انشاء اللہ اگلے برس تک میں ان کتابوں کے مطالعے سے فارغ ہوجاؤں گا۔۔۔ زندگی میں پہلی بار اردو نظم کے شاید سب سے بڑے نظم گو ستیہ پال آنند سے ملاقات ہوئی اور وہ کیسے جواں سال دکھتے ہیں۔۔۔ انہوں نے مجھے اپنے دو شعری مجموعوں سے نوازا جن میں ’’ستیہ پال آنند کی تیس نظمیں‘‘ اور ’’جو نسیم خندہ چلے‘‘ شامل تھے۔۔۔ انہوں نے خصوصی طور پر اپنی آپ بیتی بھجوانے کا وعدہ کیا۔۔۔ وہ امریکہ سے تشریف لائے تھے۔۔۔ لیکن مجھے اس کانفرنس میں سب سے زیادہ خوشی ایک نوجوان عماد قاصر سے ملاقات پر ہوئی کہ وہ میرے ’’فنون‘‘ کے زمانوں کے مرحوم دوست غلام محمد قاصر کا بیٹا تھا اور خصوصی طور پر مجھے ملنے کے لیے آیا تھا۔۔۔ میرے لیے اس کی عنایت کردہ ’’کلیات قاصر‘‘ ’’اِک شعر ابھی تک رہتا ہے‘‘ بہت بڑا تحفہ تھی۔۔۔ قاصر کے کئی شعر کلاسیک کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اور میرے بھی پسندیدہ ہیں۔

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

تم یونہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کاپتا

ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

یہ شاید آج سے چالیس برس پیشتر کا قصہ ہے جب ایک خاموش طبع نوجوان شاعر میری دکان پر آیا کرتا تھا اور ان دنوں ریلو سے میں کوئی معمولی ملازمت کر کے بمشکل گزر اوقات کرتا تھا۔۔۔ وہ شعر سناتا نہیں تھا میری فرمائش پر سنا دیتا تھا اور اُس میں ایک نایاب جوہر تھا۔ پھر وہ کراچی چلا گیا جو اسے راس آ گیا اور آج غزل اور گیت میں اس کی ناموری بے مثل ہے۔ اس نے حال ہی میں ’’ہیر رانجھا‘‘ کو اردو میں ڈھال کر اپنی قادر الکلامی کی دھاک بٹھا دی ہے اور اس کا نام صابر ظفر ہے جس کی دنیا وی اور شعری کامیابیاں مجھے مسرت سے ہمکنار کرتی ہیں۔۔۔

ہر برس کراچی آرٹس کونسل اردو کانفرنس میں کسی ایک ادبی شخصیت کو ’’اعتراف کمال‘‘ کے لیے منتخب کرتی ہے اور اس بار میرا انتخاب ہوا جس کے لیے میں احمد شاہ اور اُن کے رفقاء کار کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔۔۔ اس محفل میں رضا علی عابدی نے میرے سفر ناموں کی بات کی اور صاحب صدر عبداللہ حسین نے میرے ناولوں کے بارے میں تحسین آمیز کلمات کہے۔۔۔ میزبانی کے فرائض ڈاکٹر ضیاء الحسن نے بخوبی سر انجام دیے۔

ایک یاد میں ثبت ہو جانے والی شب نوجوان ناول نگار ایچ ایم نقوی کے ہاں گزری۔۔۔ اس نے مجھ سے اور عبداللہ حسین سے ملاقات کے لیے شہر بھر کو مدعو کر رکھا تھا۔۔۔ عرفان جاوید اور اس کی بیگم بھی موجود تھے۔ نقوی نے مجھے اپنا ناول ’’ہوم بوائے‘‘ عنایت کیا جس کی توصیف دنیا بھر میں ہوئی، اسے ایک سانس روک دینے والا ناول کہا گیا۔۔۔ اس دوران شیما کرمانی اپنے خاوند کے ہمراہ تشریف لے آئیں اور اُن کی آمد سے محفل میں روشنی بڑھ گئی۔ وہ بے حد الفت سے ملیں جس کی یاد گار ایک تصویر ہے۔ نقوی نے مدارات میں کچھ کسر نہ چھوڑی تھی۔ وہ ایک پرانی طرز کے منیشن میں رہتا تھا، جب میں نے پوچھا کہ یہ گھر تمہارا ہے تو کہنے لگا ’’نہیں، ہم تو گھر داماد ہوا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ ایسے سسرال سب کو نصیب کرے۔

ضیاء محی الدین کی شام میں ساحرہ کاظمی اور راحت کاظمی سے ایک عرصے کے بعد ملاقات ہو گئی اور دل کا عجب حال ہوا کہ ہم نے ایک مدت ٹیلی ویژن کو اپنا گھر بنائے رکھا تھا۔۔۔ جب یہ مثالی جوڑا لاہور میں تھا تو اکثر ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔۔۔ سب خواب ہوا۔۔۔ انور سجاد جسے کراچی نے قید کر لیا ہے، دور سے نظر آئے، ہجوم کے باعث اس پرانے دوست تک پہنچ ہی نہ سکا۔۔۔ افسوس ہوا۔

میرے لیے کانفرنس کا اہم ترین اجلاس ’’اداس نسلیں‘‘ کی اشاعت کے پچاس برس کا جشن تھا۔ عبداللہ حسین نے جتنی شہرت اس ایک ناول سے حاصل کی اتنی ناموری کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ اپنی زندگی میں ہی اپنے ناول کا کلاسیک میں شمار ہو جانا کتنی بڑی خوش نصیبی ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں اُن کی دراز قامتی کے حوالے سے لکھا تھا کہ زندگی بھر عبداللہ حسین کو نہ اپنے قد کے مطابق چارپائی نصیب ہوئی اور نہ ہی کوئی نقاد۔۔۔ ہماری رفاقت تقریباً چالیس برس پر محیط ہے اور کم از کم میں عبداللہ حسین کے بغیر اپنی زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسے صحت اور زندگی دے۔

کانفرنس ختم ہوئی تو منیر نیازی یاد آگیا۔



کتاب عمر کا ایک اور باب ختم ہوا

شباب ختم ہوا اِک عذاب ختم ہوا



از مستنصر حسین تارڑ صاحب



مس شایان ملک !!!