میں بس اسٹاپ پہ کھڑا اس شخص جو حلیہ سے کافی ہینڈسم اور پڑھا لکھا نظر آرہا تھا کافی دیر سے گھور رہا تھا کیونکہ وہ شخص اتنی ہی دیر سے بس اسٹاپ پہ کھڑی ایک اکیلی خاتون کو مسلسل گھورے جارہا تھا جو کچھ ہی فاصلہ پر کھڑیں تھیں۔

تھوڑی ہی دیر میں ایک کوچ کو خاتون نے رکنے کا اشارہ کیا ، کوچ اسٹاپ پر آ کر رکی اور خاتون کوچ میں سوار ہو گئیں۔

خاتون تو چلی گئیں لیکن میں نے اس شخص کو گھورنا نہیں چھوڑا کیونکہ میری نیت اسے اس بات کا احساس دلانا تھا کہ کسی کو کسی کا گھورنا کس قدر برا لگ سکتا ہے اور ہوا بھی یہی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص میری طرف آیا اور آتے ہی میرا گریبان پکڑلیا۔
میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے کہا ارے بھائی کیا ہوا؟ چھوڑیں میرا گریبان۔ بلا وجہ میں گلے پڑ رہے ہیں۔
اس نے کہا ابے تو مجھے اتنی دیر سے کیوں گھور رہا ہے؟
میں نے کہا، کیا ہوا بھائی؟ آپ کو دیکھنا گناہ ہے کیا؟ جب آپ بس اسٹاپ پہ کھڑی اس خاتون کو گھور رہے تھے تو میں آپ کو گھورنے لگا اس میں کیا مذائقہ؟
جب آپ کو کسی پرائی عورت کو دیکھنا اور گھورنا برا نہیں لگتا تو میرا آپ کو گھورنا برا کیوں لگا؟
شرمندگی کے احساس کے ساتھ سر کو جھکاتے ہوئے اس شخص نے میرا گریبان چھوڑ دیا اور کچھ توقف کے بعد گویا ہوا معذرت برادر میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں مجھے کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا کہ جب مجھے کسی کا گھورنا اتنا برا لگ سکتا ہے تو ایک اکیلی اور بے بس خاتون کو کتنا برا لگ سکتا ہے؟ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے احساس دلایا۔
میں نے اس شخص سے کہا کوئی بات نہیں یہ میرا اخلاقی و دینی فریضہ تھا۔ ہم سب کو اپنے اپنے حصہ کا فرض ادا کرنا ہی چاہئیے اور کسی خاتون کو تو گھورنے کی اسلام میں بھی سخت ممانعت ہے بلکہ حدیث پاک میں تو اسے آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے اور بدنگاہی کرنے والے کا عذاب یہ ہے کہ اسکی آنکھوں میں لوہےکی گرم سریہ (یا پگھلا ہوا سیسہ ) ڈالا جائے گا۔
جی ہاں آپ نے درست کہا میں نے بھی پڑھیں ہیں یہ احادیث بس عمل سے دور تھا اب میں عہد کرتا ہوں کہ آئیندہ ایسا نہیں کرونگا اور اپنے دوستوں کو بھی اس بات کا احساس دلائونگا۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے
خیر اور مزید عمل کی توفیق دے۔ آمین۔ 
٭ حوریہ ذیشان ٭