واہ رے عمر تیرا انصاف کیا آج کا کوئی حکمران ایسا کر سکتا ہے ؟؟
گورنر کے سامنے اس کا بیٹا کوڑے کھاتا ہے!!
حضرت عمرو بن عاص رض، امیر المومنین عمر بن خطاب رض کے عہد خلافت میں مصر کے حاکم تھے- مصر کا ایک آدمی حضرت عمر بن حطاب رض کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:
(اے امیر المومنین! میں ظلم سے آپ کی پناہ لینے آیا ہوں-)
حضرت عمر رض نے فرمایا:
(تم نے ایسے آدمی کی پناہ حاصل کی جو تمہیں پناہ دے سکتا ہے)
مصری بولا: میں نے حضرت عمرو بن عاص رض کے بیٹے کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا، میں اس سے آگے بڑھ گیا تو تو وہ مجھے کوڑے مارنے لگا اور کہنے لگا:
( میں شریف خاندان کا بیٹا ہوں-)
یہ شکوہ سن کر حضرت عمر رض نے مصر کے حاکم حصرت عمرو بن عاص رض کو خط لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تشریف لائيں-
عمرو بن عاص رض اپنے بیٹے کے ساتھ امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا:
(مصری کدھر ہے)؟
وہ سامنے آیا تو کہا:
(یہ کوڑا لے اور مار)-
امیرا لمومنین کا حکم ملتے ہی مصری عمرو بن عاص رض کے بیٹے پر کوڑا برسانے لگا اور امیر المومنین کہتے جارہے تھے:
(شریف خاندان کے بیٹے کو مارو!)
حضرت انس رض کہتے ہیں: مصری نے عمرو بن عاص رض کے بیٹے کو کوڑے لگائے اور اللہ کی قسم! بہت مارا، اور ہم اس کی پٹائی چاہتے بھی تھے- لیکن مصری برابر مارے جارہا تھا، حتی کہ ہماری خواھش ہوئی کہ اب اس کی پٹائی بند ہوجائے-
پھر حضرت عمر بن حطاب رض نے مصری سے فرمایا:
( کوڑا عمرو بن عاص کی چند یا " گنجے سر" پر بھی لگاؤ-)
مصری نے عرص کی: اے امیر المومنین! ان کے بیٹے نے میری پٹائی کی ہے اور میں نے اس سے قصاص لے لیا-
پھر امیر المومنین عمر بن خطاب رض عمرو بن عاص رض کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
( تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا رکھا ہے جب کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا ہے؟)
عمرو بن عاص رض نے عرض کی:
( اے امیر المومنین! مجھے اس معاملے کی کچھ بھی خبر نہیں اور نہ یہ میرے پاس شکایت لے کر آیا تھا-)
حیاۃ الصحابہ- از محمد یوسف کاندھلوی: 2/338.