حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے آپ کا لقب فاروق پڑا؟

انہوں نے کہا مجھ سے تین دن پہلے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرکے آخر میں کہا۔ جب میں مسلمان ہوا تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم حق پر نہیں ہیں خواہ زندہ رہیں خواہ مریں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ حق پر ہو خواہ زندہ رہو یا موت سے دوچار ہوجاؤ .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ اُسی وقت میں نے کہا پھر چھپنا کیسا؟ اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم ضرور باہر نکلیں گے.
چنانچہ ہم دو صفوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمراہ لے کر باہر آئے۔ ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور ایک میں، میں تھا۔ ہمارے چلنے سے چکی کے آٹے کی طرح ہلکا ہلک غبار اڑ رہا تھا۔
یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوگئے اور وہاں عبادت کی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قریش نے مجھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اُن کے دلوں پر ایسی چوٹ لگی کہ اب تک نہ لگی ہوگی وہ لوگ مرجھا کررہ گئے بس اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا لقب فاروق رکھ دیا۔

قاضی حارث