ایک دن حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ کی خادمہ نے عرض کیا:

آپ کے لیے گوشت کا اچھا سا سالن پکاؤں؟

حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں!جی تو میرا بھی چاہتا ھے ۔ اچھا ٹھیک ھے پکا کر لے آؤ؟

خادمہ نے کوشش کرکے بہت اچھا سالن تیار کیا جب وہ گوشت حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ کے سامنے لاگیا تو حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ نے فرمایا دیکھنا! فلاں شخص کے یتیم بچے کہاں ہیں؟

خادمہ بولی یہیں ہیں۔
یہ سن کر حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ فوراً نے فرمایا: بس پھر یہ گوشت انہھیں دے آؤ
خادمہ نے حیران ہو کر کہا:
آپ نے اتنی مدت سے گوشت نہیں چکھا ، آپ بھی تو اس میں سے کھالیں
اس پر حضرت داؤد طائی رحمہ اللہ نے فرمایا اگر میں یہ گوشت کھالیتا ہوں تو کچھ دیر بعد یہ نجاست بن کر کوڑے میں چلاجائے گا ۔ لیکن اگر اسے یتیم کھائیں گے تو یہ کھانا عرش الٰہی پر جائے گا (یعنی اجر و ثواب ملے گا)
اور سارا سالن اٹھا کر یتیم بچوں کو دے دیا اور خود وہی خشک روٹی کے ٹکرے کھا لیے_