ایک بوڑھی عورت نے دربارِ خلافت میں ’’شکایت‘‘ کی کہ: ’’میرے گھر میں کیڑے مکوڑے نہیں ہیں۔‘‘ خلیفہ نے اس کے گھر کا پتہ پوچھا اور اسے یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ: ’’تمہاری شکایت رفع کر دی جائے گی‘‘۔

وہ تو چلی گئی۔ درباری حیرت سے خلیفہ کا منہ تک رہے ہیں، یہ کیسی شکایت ہے اور اس کو رفع کیسے کیا جائے گا۔ خلیفہ کی آواز گونجی: ’’امیرِ بیت المال! اس عورت کے پہنچنے سے پہلے اس کا گھر کھجور، شہد، جو، اور زیتون سے بھر دو!‘‘
’’۔۔۔۔ حیرت سے دیکھنے والی آنکھو! سنو! جس گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو وہاں کیڑے مکوڑوں کا کیا کام؟ ۔۔۔۔۔۔‘‘