یہ واقعہ آج سے کچھ سال پہلے کا ہے

میری رفتار قدرے دھیمی تھی

اور میں موٹر سائیکل چلاتا بھی ہلکی رفتار سے ہوں

ٹاور سے ڈیفینس جانے کیلیئے میں نے نیٹی جیٹی پل کا راستہ چُنا۔

یہ پل انگریزوں نے بنایا تھا
اور کراچی میں واقع تخلیقات کے شاہکاروں میں سے ایک شاہکار ہے یہ پُل۔
جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی خطرناک بھی ہے۔
پورا گول پل ہے جو چار مختلف سمتوں سے نیچے اتر رہا ہے۔
اور اسکے دو طرف سمندر ہے۔
میں دھیمی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا
اچانک ایک نوجوان انتہائی تیز رفتاری سے موٹر سائیکل بھگاتا ہوا مجھ سے آگے نکلا۔
اس خطرناک پل پر اسکی رفتار دیکھ کر میرا دل دہل گیا۔
قبل اسکے کہ میں کچھ اور سوچ پاتا۔
ایک عجیب منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔
گولائی میں موٹر سائیکل گھماتے ہوئے اچانک اس نوجوان کی بائک پھسلی
اور وہ سلپ ہوتا ہوا پل کے کنارے پر واقع جنگلے میں موٹر سائیل سمیت گھس گیا۔
اور موٹر سائیکل اسی جنگلے میں پھنس گئی
جبکہ وہ نوجوان جنگلہ عبور کرتا ہوا پل سے نیچے مووجود سمندر میں گر گیا۔
اف میرے خدا کیسا ہولناک منظر تھا۔
موٹر سائیکل پچک کر لوہے کے ٹکڑوں میں تبدیل ہوگئی تھی
اور اس نوجوان کے جسم کی حالت بیان کر رہی تھی جو نیچے سمندر میں تھا۔
فوراً ہی لوگوں کا رش لگ گیا۔
دیکھنے والوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے۔
میں جائے وقوعہ تک پہنچ رہا تھا کہ میں نے دیکھا جس جگہ سے نوجوان کی بائک سلپ ہوئی تھی 
وہاں کیلے کے دو چھلکے پڑے ہوئے تھے جبکہ ایک چھلکے کے رگڑنے کے نشان تھے۔
کسی کی غلطی نے ایک انسان کی جان لے لی تھی۔
چھوٹی سی غلطی۔
بہت معمولی سی۔ کیلے کا چھلکا گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھینک دینے کی غلطی۔
شاید چھلکا پھینکنے والے یا والی کو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ وہ چھلکا "آلۂ قتل" بن چکا ہے۔
یوں اس نوجوان کی تیز رفتاری اور کسی انسان کی چھوٹی سی غلطی نے ایک گھر اجاڑ دیا۔
ہم بھی اپنے آس پاس دیکھیں۔
ہماری کسی حرکت سے کسی کا کچھ نقصان تو نہیں ہورہا؟؟؟
حدیث ہے:

مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

تحریر:
قاضی محمد حارث