24 Hours
+92-300-4936-748

اے مسلمان تو بھی ایک شیر ہے جسے دنیا کی لذتوں نے بکری بنادیا ہے

25 Nov, 2013 | admin | No Comments

اے مسلمان تو بھی ایک شیر ہے جسے دنیا کی لذتوں نے بکری بنادیا ہے

 
کسی ملک میں ایک چرواہا تھا ایک دن اس کو جنگل میں شیر کا ایک بچہ ملا تو وہ بڑا پریشان ہوا کہ اس کا کیا کرے ظاہر ہے کہ اس کو اپنے گھر نہیں لیجاسکتا تھا بھیڑ بکریوں پر ہی اس غریب کا گزر بسر تھا شیر کی وحشت سے خوب واقف تھا مگر دل میں رحم آگیا اور شیر کے اس بچے کو اپنے ساتھ لے آیا اور اس کی پرورش کرنے لگا شیر کا یہ بچہ آہستہ آہستہ بڑا ہورہا تھا مگر اس کو شکار کرنا نہیں آتا تھا بلکہ بھیڑ بکریاں اس سے جارحانہ رویہ اپنائے رکھتے اور یہ غریب ان کی مار تک بھی برداشت کر جاتا جنگل میں موجود ایک بھیڑئیے نے جب یہ منظر دیکھا تو خوش ہوگیا کہ یہ شیر جس کے ڈر کی وجہ سے میں ان بکریوں کا شکار نہیں کررہا تھا یہ شیر تو خود بھیڑ بنا ہوا ہے-

غرض یہ کہ اس بھیڑئیے نے ایک دن ہمت کر ہی لی اور ایک بکری پر حملہ کردیا اس بکری کے پیچھے جب یہ بھیڑیا دوڑ رہا تھا تو شیر باقی بکریوں کی طرح دور کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا مگر جب اس نے اس بکری کی بے بسی ، اور اس کے خوف کو دیکھا تو ایک دم اس کے اندر کے شیر کی سوئی ہوئی جبلت جاگ اٹھی اس نے اس زور سے دھاڑ ماری کہ بھیڑیا لرز اٹھا اور پھر شیر نے اس کو حملہ کرکے بھگا دیا-

اے مسلمان تو بھی ایک شیر ہے جسے دنیا کی لذتوں نے بکری بنادیا ہے اور آج یہ کافر بھیڑیے تجھ کو بھی بکری سمجھ کر تجھ سے پیش آرہے ہیں تو کب تک غفلت میں پڑا رہے گا اور وہ وقت کب آئے گا جب تو اپنے اندر کے شیر کو بیدار کرے گا
دل خون کے آنسو روتا ہے اس بات کو سوچ سوچ کر کہ اس مسلمان سے کافر کب سے کھیل رہے ہیں مگر اس کی جبلت میں پڑا کلمہ اس کو بیدار ہی نہیں کرتا-
یاد رہے لا الہ الا اللہ کا مطلب یہی ہے کہ کوئی معبود نہیں کوئی بڑا نہیں کوئی حاکم نہیں سوائے اللہ بزرگ و برتر کے-
آج اس غریب مسلمان کی جان پر ہر کوئی حاکم بنا ہوا ہے-
ہاں یہی مسلمان ہے کہ جس کا قتل عام کیا جاتا ہے جس کی آبرو پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں جس کی بیٹیوں کا کوئی وارث نہیں-
جس کی اجتماعی قبریں دنیا میں پھیلتی جارہی ہیں جس کی پوری پوری بستیوں کو جلا دیا جاتا ہے جس کی مساجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے
میرے بھائیو
اللہ کےلیے اپنے مسلمانوں کی خبر لو
مسلمانوں کی یہ درد سے لبریز اور غم و الم میں ڈوبی پکار آج دنیا کے ہر کونے سے آرہی ہے-
آج ہر مسلمان ان مظلوموں کےلیے جو ھو سکتا وہ کر گزرے ہماری زندگیوں میں لوگ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کے ساتھ مذاق بنا کررہے ہیں بے بس امت مسلمہ اپنے حکمرانوں سے مایوس ہوکر مسلمانوں کو پکار رہی ہے-
{اے مسلم}
اگر تو خود کچھ نہیں کرسکتا تو رب کےلیے ان مظلوم مسلمانوں کے پیغام کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچا دے شاید کوئی نبی کی امت کا وارث اٹھ کھڑا ھو
اس پیغام کو پڑھنے والے آپ اگر کوئی بھی ہیں چاہے آپ فیس بک کے عام یوزر ہیں یا ایڈمن یا آپ میڈیا کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں اس فکر کو پھیلائیے
اس امت کی عزت کےلیے اٹھو-

٭Abbas Muawiya٭

Related Tags