کسی ملک میں ایک چرواہا تھا ایک دن اس کو جنگل میں شیر کا ایک بچہ ملا تو وہ بڑا پریشان ہوا کہ اس کا کیا کرے ظاہر ہے کہ اس کو اپنے گھر نہیں لیجاسکتا تھا بھیڑ بکریوں پر ہی اس غریب کا گزر بسر تھا شیر کی وحشت سے خوب واقف تھا مگر دل میں رحم آگیا اور شیر کے اس بچے کو اپنے ساتھ لے آیا اور اس کی پرورش کرنے لگا شیر کا یہ بچہ آہستہ آہستہ بڑا ہورہا تھا مگر اس کو شکار کرنا نہیں آتا تھا بلکہ بھیڑ بکریاں اس سے جارحانہ رویہ اپنائے رکھتے اور یہ غریب ان کی مار تک بھی برداشت کر جاتا جنگل میں موجود ایک بھیڑئیے نے جب یہ منظر دیکھا تو خوش ہوگیا کہ یہ شیر جس کے ڈر کی وجہ سے میں ان بکریوں کا شکار نہیں کررہا تھا یہ شیر تو خود بھیڑ بنا ہوا ہے-

غرض یہ کہ اس بھیڑئیے نے ایک دن ہمت کر ہی لی اور ایک بکری پر حملہ کردیا اس بکری کے پیچھے جب یہ بھیڑیا دوڑ رہا تھا تو شیر باقی بکریوں کی طرح دور کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا مگر جب اس نے اس بکری کی بے بسی ، اور اس کے خوف کو دیکھا تو ایک دم اس کے اندر کے شیر کی سوئی ہوئی جبلت جاگ اٹھی اس نے اس زور سے دھاڑ ماری کہ بھیڑیا لرز اٹھا اور پھر شیر نے اس کو حملہ کرکے بھگا دیا-

اے مسلمان تو بھی ایک شیر ہے جسے دنیا کی لذتوں نے بکری بنادیا ہے اور آج یہ کافر بھیڑیے تجھ کو بھی بکری سمجھ کر تجھ سے پیش آرہے ہیں تو کب تک غفلت میں پڑا رہے گا اور وہ وقت کب آئے گا جب تو اپنے اندر کے شیر کو بیدار کرے گا
دل خون کے آنسو روتا ہے اس بات کو سوچ سوچ کر کہ اس مسلمان سے کافر کب سے کھیل رہے ہیں مگر اس کی جبلت میں پڑا کلمہ اس کو بیدار ہی نہیں کرتا-
یاد رہے لا الہ الا اللہ کا مطلب یہی ہے کہ کوئی معبود نہیں کوئی بڑا نہیں کوئی حاکم نہیں سوائے اللہ بزرگ و برتر کے-
آج اس غریب مسلمان کی جان پر ہر کوئی حاکم بنا ہوا ہے-
ہاں یہی مسلمان ہے کہ جس کا قتل عام کیا جاتا ہے جس کی آبرو پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں جس کی بیٹیوں کا کوئی وارث نہیں-
جس کی اجتماعی قبریں دنیا میں پھیلتی جارہی ہیں جس کی پوری پوری بستیوں کو جلا دیا جاتا ہے جس کی مساجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے
میرے بھائیو
اللہ کےلیے اپنے مسلمانوں کی خبر لو
مسلمانوں کی یہ درد سے لبریز اور غم و الم میں ڈوبی پکار آج دنیا کے ہر کونے سے آرہی ہے-
آج ہر مسلمان ان مظلوموں کےلیے جو ھو سکتا وہ کر گزرے ہماری زندگیوں میں لوگ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کے ساتھ مذاق بنا کررہے ہیں بے بس امت مسلمہ اپنے حکمرانوں سے مایوس ہوکر مسلمانوں کو پکار رہی ہے-
{اے مسلم}
اگر تو خود کچھ نہیں کرسکتا تو رب کےلیے ان مظلوم مسلمانوں کے پیغام کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچا دے شاید کوئی نبی کی امت کا وارث اٹھ کھڑا ھو
اس پیغام کو پڑھنے والے آپ اگر کوئی بھی ہیں چاہے آپ فیس بک کے عام یوزر ہیں یا ایڈمن یا آپ میڈیا کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں اس فکر کو پھیلائیے
اس امت کی عزت کےلیے اٹھو-

٭Abbas Muawiya٭