ایک مشہور عالمہ ،ادیبہ کی دس وصیتیں جو اس نے اپنی بیٹی کو شادی پر کی آپ کے لیے نقل کر رہی ہوں 
1- میری پیاری بیٹی ،میری آنکھوں کی ٹھنڈک ،شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا۔ جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا ، جو روکھی سوکھی شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جائے وہ اس مر غ پلاﺅ سے بہتر ہے جو تمہارے اصرار کرنے پر اس نے ناراضگی سے دیا ہو ۔ 
2- میری پیاری بیٹی ، اس بات کا خیال رکھنا کہ اپنے شوہر کی بات کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اسکو اہمیت دینا اور ہر حال میں ان کی بات پر عمل کرنے کی کو شش کرنا اسطر ح تم ان کے دل میں جگہ بنالو گی کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے ۔
3- میری پیاری بیٹی اپنی زینت و جمال کا ایسا خیال رکھنا کہ جب وہ تجھے نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خو ش ہو اور سادگی کے ساتھ جتنی بھی استطاعت ہو خوشبو کا اہتمام ضرور کرنا اور یاد رکھنا کہ تیرے جسم و لباس کی کوئی بو یا کوئی بری ہیت اسے نفرت و کراہت نہ دلائے ۔ 

4- میری پیاری بیٹی اپنی شوہر کی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے کے لیے اپنی آنکھو ں کو سرمے اور کاجل سے حسن دینا کیونکہ پر کشش آنکھیں پورے وجو د کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جچا دیتی ہیں ۔ غسل اور وضو کا اہتمام کرنا کہ یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور لطافت کا بہترین ذریعہ ہے ۔ 
5- میری پیاری بیٹی ان کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا کیونکہ دیر تک برداشت کی جانی والی بھوک بھڑکتے ہوئے شعلے کی مانند ہو جاتی ہے اور ان کے آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ماحول بنانا کیونکہ نیند ادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے ۔ 
6- میری پیاری بیٹی ان کے گھر اور انکے مال کی نگرانی یعنی ان کے بغیر اجازت کوئی گھر میں نہ آئے اور ان کا مال لغویات ، نما ئش و فیشن میں بر باد نہ کرنا کیونکہ مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے اور اہل عیال کی بہتر حفاظت حسن تدبر سے ۔
7- میری پیاری بیٹی ان کی رازدار رہنا ،ان کی نافرمانی نہ کرنا کیونکہ ان جیسے بارعب شخص کی نا فرمانی جلتی پر تیل کا کام کریگی اور تم اگر اسکا راز دوسروں سے چھپا کر نہ رکھ سکیں تو اسکا اعتماد تم پر سے ہٹ جا ئیگا اور پھر تم بھی اسکے دو رخے پن سے محفوظ نہیں رہ سکو گی ۔ 
8- میری پیاری بیٹی جب وہ کسی بات پر غمگین ہوں تو اپنی کسی خوشی کا اظہار ان کے سامنے نہ کرنا یعنی ان کے غم میں برابر کی شریک رہنا۔ شوہر کی کسی خوشی کے وقت غم کے اثرات چہرے پر نہ لانا اورنہ ہی شوہر سے ان کے کسی رویے کی شکایت کر نا ۔ ان کی خوشی میں خو ش رہنا۔ اور نہ تم ان کے قلب کے مکدر کرنے والی شمار ہو گی۔
9- میری پیاری بیٹی اگر تم ان کی نگاہوں میں قابل تکریم بننا چاہتی ہو تو اس کی عزت اور احترام کا خوب خیال رکھنا اور اسکی مرضیا ت کے مطابق چلنا تو اس کو بھی ہمیشہ ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر ہر مرحلے میں اپنا بہترین رفیق پاﺅ گی۔ 
10- میری پیاری بیٹی میری اس نصیحت کو پلو سے باندھ لو اور اس پر گرہ لگا لو کہ جب تک
تم ان کی خو شی اور مرضی کی خاطر کئی بار اپنا دل نہیں مارو گی اور انکی بات اوپر رکھنے کے لیے خواہ تمہیں پسند ہو یا ناپسند، زندگی کے کئی مرحلوں میں اپنے دل میں اٹھنے والی خواہشو ں کو دفن نہیں کر و گی اس وقت تک تمہاری زندگی میں بھی خو شیو ں کے پھول نہیں کھلیں گے ۔ اے میری پیا ری اور لاڈلی بیٹی ان نصیحتو ں کے ساتھ میں تمہیں اللہ کے حوالہ کر تی ہوں اللہ تعالیٰ زندگی کے تمام مرحلوں میں تمہارے لیے خیر مقدر فرمائے اور ہر بر ائی سے تم کو بچائے ۔