~*~ میرے ابو ~*~ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کے لیے بہت کچھ لکھا جاتا ہے ، واقعی ماں کی عظمت بہت زیادہ ہے لیکن ایک ہستی اور بھی ہے جو ماں کی طرح ہی محترم ہے اور ماں کی طرح ہی پیار کرنے اور خیال رکھنے والی ...

****ضرور پڑھیں اور دوستوں کے ساتھ شیر کریں**** ’’ہماری رہائش ریلوے کالونی گڑھی شاہو لاہور میں تھی ۔یہاں میرے ہم مذہبوں کے بھی گھرتھے لیکن زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی۔ اتفاق کی بات کہیے کہ میرا زیادہ اٹھنا بیٹھنا ملنا جلنا اور کھیلنا کودنا بھی مسلمان لڑکوں کے ساتھ ہی ...

Hazrat usman (rz) ki Sakhawat aur madeena ka Qahat   ایک دفعہ مدینہ منورہ میں قحط پڑگیا ۔ آسمان نے پانی برسانا چھوڑ دیاتھا اور زمین نے اناج اگانے سے انکار کردیاتھا ۔اس قحط کی وجہ سے پورے شہر میں غربت پھیل گئی تھی لوگ دانے دانےکے لئے محتاج ہو ...

  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نہایت عمدہ اور شاہکار تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہے اور چپهکلی سے خوفزدہ ہونے والی عورت کو جب تخلیق کی ذمہ داری لینے کے لیے چنا جاتا ہے تو وہ ماں بننے جیسے مشکل تر اور آزمائش بهرے مرحلے سے گزر جاتی ہے. انجکشن کی سوئی دیکھ کر آنکھیں ...

فرعون کے محل میں اذان کی آواز!! فرعونوں نے مصر پر تین ہزار تین سو سال تک حکومت کی تھی. تاریخ میں 33 فرعون گزرے ہیں. ہر فرعون کو تقریبا سو سال تک اقتدار ملا تھا. حضرت موسیٰ کے ساتھ آخری فرعون کا مقابلہ ہوا، یہ پانی میں ڈوبا اور ...

  ابن انشاء مرحوم نے اپنی کتاب "اردو کی آخری کتاب" میں نادر شاہ درانی کے ہندوستان پر اس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے بڑے شگفتہ انداز میں تحریر کیا ہے کہ "نادر شاہ نے اپنے مشیروں سے کہا کہ ہم ہندوستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ...

  اسلام زندہ باد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک پرہیز گار جوان تھا، وہ مسجد میں گوشہ نشین رہتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ شخص بہت پسند تھا۔ اس جوان کا بوڑھا باپ زندہ ...

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے……اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا …….امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے……آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ ...

عصر کا وقت تھا۔ روضہ رسول کے باب جبریل کے بالکل سامنے مسجد نبوی کی سیڑھیوں کے ساتھ ایک کونے میں باریش بزرگ مدھم سی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھا۔ یہ بزرگ دنیا سے بالکل بے نیاز لگ رہا تھا لیکن وقفے وقفے سے کوئی نہ ...

  میں بس اسٹاپ پہ کھڑا اس شخص جو حلیہ سے کافی ہینڈسم اور پڑھا لکھا نظر آرہا تھا کافی دیر سے گھور رہا تھا کیونکہ وہ شخص اتنی ہی دیر سے بس اسٹاپ پہ کھڑی ایک اکیلی خاتون کو مسلسل گھورے جارہا تھا جو کچھ ہی فاصلہ پر کھڑیں ...