Categories
Urdu Articles

Habeel and Aabeel Lewda and aqleema

تاریخ کے علماء کا بیان ہے کہ حضرت حوا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی کے ساتھ نکاح کیا جاتا تھا اور چونکہ انسان صرف حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں مُنْحَصِر تھے تو آپس میں نکاح کرنے کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہ تھی۔ اسی دستور کے مطابق حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ’’قابیل ‘‘کا نکاح’’ لیودا‘‘ سے جو’’ ہابیل ‘‘کے ساتھ پیدا ہوئی تھی اور ہابیل کا اقلیما سے جو قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا۔ قابیل اس پر راضی نہ ہوا اور چونکہ اقلیما زیادہ خوبصورت تھی اس لئے اس کا طلبگار ہوا۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’کیونکہ وہ تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے لہٰذا وہ تیری بہن ہے، اس کے ساتھ تیرا نکاح حلال نہیں۔ قابیل کہنے لگا ’’یہ تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رائے ہے، اللّٰه تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا۔” آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: اگر تم یہ سمجھتے ہو تو تم دونوں قربانیاں لاؤ، جس کی قربانی مقبول ہوجائے وہی اقلیما کا حقدار ہے۔ اس زمانہ میں جو قربانی مقبول ہوتی تھی آسمان سے ایک آگ اتر کر اس کو کھالیا کرتی تھی۔ قابیل نے ایک انبار گندم اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لیے پیش کی۔ آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو لے لیا اور قابیل کی گندم کو چھوڑ دیا۔ اس پر قابیل کے دل میں بہت بغض و حسد پیدا ہوا اور جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو قابیل نے ہابیل سے کہا کہ ’’میں تجھے قتل کردوں گا۔ ہابیل نے کہا: کیوں؟ قابیل نے کہا: اس لئے کہ تیری قربانی مقبول ہوئی اور میری قبول نہ ہوئی اور تو اقلیما کا مستحق ٹھہرا، اس میں میری ذلت ہے۔ ہابیل نے جواب دیا کہ’’ اللّٰه تعالیٰ صرف ڈرنے والوں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔ ہابیل کے اس مقولہ کا یہ مطلب ہے کہ ’’قربانی کو قبول کرنا اللّٰه عَزَّوَجَلَّ کا کام ہے وہ متقی لوگوں کی قربانی قبول فرماتا ہے، تو متقی ہوتا تو تیری قربانی قبول ہوتی، یہ خود تیرے افعال کا نتیجہ ہے اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میر ی طرف سے ابتداء ہو حالانکہ میں تجھ سے قوی و توانا ہوں یہ صرف اس لئے کہ میں اللّٰه عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا یعنی میرے قتل کرنے کا گناہ اور تیرا گناہ یعنی جو اس سے پہلے تو نے کیا کہ والد کی نافرمانی کی، حسد کیا اور خدائی فیصلہ کو نہ مانا یہ دونوں قسم کے گناہ تیرے اوپر ہی پڑجائیں تو تُو دوزخی ہوجائے۔

قابیل تمام گفتگو کے بعد بھی ہابیل کو قتل کرنے کے ارادے پر ڈٹا رہا اور اس کے نفس نے اسے اِس ارادے پر راضی کرلیا، چنانچہ قابیل نے ہابیل کو کسی طریقے سے قتل کردیا لیکن پھر حیران ہوا کہ اس لاش کو کیا کرے! کیونکہ اس وقت تک کوئی انسان مرا ہی نہ تھا۔ مدت تک لاش کو پشت پر لادے پھرتا رہا۔ پھر جب اسے لاش چھپانے کا کوئی طریقہ سمجھ نہ آیا تو اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کرید رہا تھا، چنانچہ یوں ہوا کہ دو کوّے آپس میں لڑے، ان میں سے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر زندہ کوّے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر گڑھا کھودا، اس میں مرے ہوئے کوّے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو دفن کرنا چاہئے چنانچہ اس نے زمین کھود کر دفن کردیا۔
(جلالین، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۹۸، مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۲۸۲، ملتقطاً)

قرآن کریم میں ہابیل و قابیل کا قصہ سورۃ المائدہ میں آیا ہے:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ Aya-27

اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا “میں تجھے مار ڈالوں گا” اس نے جواب دیا “اللّٰه تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے

لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لَأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ Aya-28

اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللّٰه رب العالمین سے ڈرتا ہوں

إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاء الظَّالِمِينَ Aya-29

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے”

فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ Aya-30

آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں

فَبَعَثَ اللّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ Aya-31

پھر اللّٰه نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا

ہابیل اور قابیل کے واقعہ سے حاصل ہونے والے اَسباق:

یہ واقعہ بہت سی عبرتوں اور نصیحتوں پر مشتمل ہے ،ان میں سے ایک یہ کہ انسان نے جو سب سے پہلے جرائم کئے ان میں ایک قتل تھا ،اوردوسر ی یہ ہے کہ حسد بڑی بری چیز ہے، حسد ہی نے شیطان کو برباد کیا اور حسد ہی نے دنیا میں قابیل کو تباہ کیا۔

حسد ،قتل اور حُسن پرستی کی مذمت:

اس واقعے سے تین چیزوں کی مذمت بھی ظاہر ہوتی ہے:

(1)حسد

حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی، حسد اور بغض۔ یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۵۶-باب، ۴/۲۲۸، الحدیث: ۲۵۱۸)

(2) قتل

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’ناحق حرام خون بہانا ہلاک کرنے والے اُن اُمور میں سے ہے جن سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔
(بخاری، کتاب الدیات، باب قول اللہ تعالی: ومن یقتل مؤمناً۔۔۔ الخ، ۴/۳۵۶، الحدیث: ۶۸۶۳)

(3) حسن پرستی۔

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عورت کے محاسن کی طرف نظر کرنا ابلیس کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔
(نوادر الاصول، الاصل الرابع والثلاثون، ۱/۱۴۷، الحدیث: ۲۱۳)

اللہ تعالی ہمیں ان تینوں گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العٰلمین

Categories
Urdu Articles

Hleth nemat he

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا

’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘?

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔?

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘?

صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-?

ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔?

ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘?

مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘?

مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘?

مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے?

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-?

سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘?

مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘?

سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں ?

جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔?

ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘?

صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ ?

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘?

ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘ ?

دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘?

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘?

لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘?

آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘ ?

دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘?

آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘?

دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘?

قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘?

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘?

آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘ ?

شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں?

اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘?

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔?

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ ?

ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں ?

تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘?

ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔?

اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں…..?

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے.
???

Categories
Urdu Articles

آن لائن قرآنی تعلیم اور احتیاط

قرآنِ پاک کی باقاعدہ تدریس کا سلسلہ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر سے شروع ہوا۔ یہ تعلیم و تعلم ہماری قدیمی مذہبی روایت ہے۔ بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ اس تعلیم کے طریقوں میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ آج آن لائن ٹیوٹر سے قرآن پڑھنا وقت کی اہم ضرورت اور مقبول ترین طریقہ بن گیا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی فراہمی پبلک ڈیٹا نیٹ ورک سے شروع ہوئی۔ میں نے قرآنِ پاک کی آن لائن اور آف لائن تعلیم دسمبر 1996 سے شروع کی۔ اولًا ICQ اور Hotmail اور بعد ازاں مختلف میسنجرز اور ای میل سروسز کے ذریعے یہ کام چلایا۔ پھر اس کارِ خیر کے لیے مختلف کمپنیوں کے پروگرام جیسے یاہو، سکائپ، ٹیم ویوئر اور فیسبک وغیرہ استعمال کیے۔ کئی لوگوں کو چھوٹے بڑے پیمانے پر یہ کام شروع کرایا جو ان کی حلال یافت کا ذریعہ بنا۔ مجھے اس شعبے میں پہل کار (pioneer) ہونے دعویٰ نہیں ہے تاہم ابھی تک مجھے ایسا کوئی آدمی نہیں ملا جس نے وطنِ عزیز میں مجھ سے پہلے آن لائن تعلیمِ قرآن کا کام کیا ہو۔ پاکستان کا پہلا آن لائن فتویٰ سافٹ ویئر اور ویب سائٹ بھی اسی خاکسار نے بنائی۔

عرصہ دراز سے مختلف حیثیتوں میں آن لائن تعلیمِ قرآن کے شعبہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے مجھے ہر طرح اور ہر سطح کے نشیب و فراز کا سامنا ہوا۔ جو مسئلہ پیش آیا، تکنیکی ہو یا سماجی یا شرعی، اس کا حل بھی خود ہی نکالا۔ کل ایک بڑے مفتی صاحب نے اس سلسلے میں والدین کے لیے کچھ ہدایات لکھنے کا حکم دیا چنانچہ یہ سطور لکھنے کی ہمت کی۔ یاد رہے کہ آن لائن تعلیمِ قرآن کا کاروبار زیادہ تر ملک سے باہر ہوتا ہے، یعنی پاکستان کے قاری صاحب یا قاریہ (جو ننانوے فیصد علمائے دین ہوتے ہیں) بیرونِ ملک پاکستانیوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ آگے کی ساری گفتگو اسی تناظر میں ہے۔

آن لائن تعلیمِ قرآن سے متعلق چند اہم امور جنھیں والدین کو ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے، درجِ ذیل ہیں:

1۔ اپنی بیٹیوں کو مرد استاد کے حوالے ہرگز نہ کریں۔ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اکثر یہ تجربہ خطرناک ثابت ہوا۔ بیرون ممالک میں رہنے والی بچیاں ان کے لیے پاکستان سے بھاگنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ استاد چونکہ امیگریشن کے حصول کے لیے درکار لازمی کوائف سے بوجوہ محروم ہوتے ہیں اس لیے تعلیمِ قرآن کے اسی کاروبار کو امیگریشن کے لیے شارٹ کٹ سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے کو تیار ملتے ہیں۔

2۔ بیرون ملک مقیم جب چھٹیوں پر یا کسی وجہ سے پاکستان آئیں تو استاد صاحب کو ملاقات کا موقع ہرگز مت دیں، اور نہ ان پر اپنی رہائش گاہ کا پتہ یا تفصیلات آشکار کریں۔

3۔ ان استاد صاحبان کے نت نئے تقاضوں کو ان کا پروفیشن سمجھیں۔ تقاضوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ استاد کو باور کروائیں کہ مشاہرے کے علاوہ دیگر مدات کی رقم مشاہرے سے منہا ہوگی۔ اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی سے کسی حاجت مند کی امداد کے لیے کسی حقیقی مستحق رشتہ دار کو ترجیح دیں۔ بہتر یہ ہے کہ کسی ٹرسٹ کو بھی امداد نہ دیں۔ یقین کیجیے کہ آپ لوگوں کو ملک سے باہر رہتے ہوئے یہاں کے چندہ مانگنے والوں اور عاملینِ زکوٰۃ وغیرہ کے بارے میں درست معلومات مہیا نہیں ہیں۔

4۔ استاد جس ادارے کا ملازم ہے اس ادارے کے منتظم کا مختلف اوقات میں دو تین بار ویڈیو کال کے ذریعے جائزہ لیں کہ آیا اس کا حلیہ اور باڈی لینگویج اس کے دعوے کے مطابق ہے یا نہیں، نہ کہ آپ کسی غیر مسلم کے ہاتھ جا پڑیں۔

5۔ منتظم اور اساتذہ کی اسناد ضرور طلب فرمائیں اور ان کا اچھی طرح جائزہ لیں۔

6۔ منتظم کی سرکاری شناختی دستاویزات جیسے قومی شناختی کارڈ، بالخصوص NTN ضرور طلب فرمائیں۔ پاکستان میں جائز کاروبار کرنے کے لیے یہ قانونی ضرورت ہے۔

7۔ اگر پاکستان میں کوئی بااعتماد رشتے دار یا دوست ہو جو ادارے میں جاکر وہاں کا تفصیلی تعارف لے سکے تو اچھا ہے، تاکہ آپ انجانے میں کسی کالعدم تنظیم کے ہاتھ مضبوط نہ کر بیٹھیں جس کی وجہ سے آپ کے ملک کے سیکورٹی ادارے آپ کے پیچھے پڑ جائیں۔

8۔ اجنبی کالز پر کان نہ دھریں۔ یہ لوگ بہت لہک لہک کر باتیں کرتے اور لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بجائے کسی اعتماد والے ریفرنس سے استاد تلاش کریں تاکہ آپ کا بچہ بچی تجربہ گاہ نہ بنے۔

9۔ دورانِ کلاس ماں باپ میں سے ایک اپنی موجودگی کا لازمی اہتمام فرمائیں۔ اور اپنی اس موجودگی کا احساس استاد کو دلاتے رہیں تاکہ وہ ہوشیار رہے۔

10۔ استاد کی کسی قسم کی منفی سرگرمی یا کسی کالعدم تنظیم سے تعلق کی بو محسوس کرتے ہی استاد کو بلاک کر دیں اور ہرگز ہرگز شک کا فائدہ نہ دیں۔

11۔ نہایت تیز نگاہی سے دیکھتے رہیں کہ قرآن کے نام پر بچہ بچی کو کسی فرقہ کی طرف داری کرنے اور کسی فرقہ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔

12۔ قرآنِ مجید پڑھانے والے استاد کو صرف قرآن کی تعلیم تک محدود رکھیے۔ اس کو ون سٹاپ شاپ بناکر اس سے ہر قسم کا دینی مسئلہ مت پوچھیے، اور اگر وہ خود سے بتانے لگے تو روک دیجیے۔

13۔ قرآن پڑھانے والے استاد اور اس کے منتظمِ ادارہ کو اپنی ذاتی اور گھریلو زندگی کے متعلق کچھ مت بتائیے اور نہ اسے پوچھنے کا موقع دیجیے اور ان لوگوں کو اپنی ذاتی یا عائلی زندگی میں داخل ہونے کا موقع نہ دیجیے۔ ان کو اپنی موومنٹ کی اطلاع اور اپنے رشتہ داروں وغیرہ کا تعارف بھی مت کرائیے۔

14۔ بچوں کو پڑھانے والے تمام اساتذہ سے وٹس ایپ، سکائپ، فیسبک، وائبر، آئی ایم او، وغیرہ پر رابطے کے لیے ایک فون نمبر/سم الگ سے لے لیجیے اور ای میل ایڈریس بھی الگ سے بنائیے اور الگ آئی ڈیز بنائیے۔ آپ کے یا بچوں کے ذاتی نمبر اور ای میل ایڈریس وغیرہ ان اساتذہ کے پاس نہیں ہونے چاہییں۔

15۔ احتیاط کیجیے کہ آپ یا بچے کسی صورت میں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال نہ ہوں۔

16۔ ویب کیم آف رکھا جائے، بالخصوص بیٹیوں کا۔

17۔ سائبر کرائم کا دھیان رکھیے، کہ دورانِ تعلیم کوئی ایسا مواد یا بات نہ لکھی جائے جو پاکستان یا آپکے اپنے ملک کے قانون میں جرم ہو۔

18۔ اگر آن لائن پڑھانے والا آپ ہی کے شہر میں ہو تو اور بھی احتیاط کیجیے اور بالمشافہہ ملاقات سے بچیے. اس سے بہت مکروہ خرابیاں پیدا ہوتی ہیں. آن لائن تعلق کو صرف آن لائن اور سائبر تعلق تک محدود رکھیے۔

19۔ انتہائی دھیان رکھنے کی آخری بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں قانونی طور پر آپ کو اپنی مرضی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا حتیٰ کہ آپ کے والدین بھی، اور اس قانون کا استاد اور شاگرد دونوں ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اٹھاتے بھی ہیں۔

ان باتوں کا اگر دھیان رکھا جائے تو قرآنِ مجید آن لائن کی تعلیم کے شعبے میں گھس آنے والے بدکاروں کی غلط کاریوں سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے اور اس مقدس کام کو بدنامی سے بچایا جا سکتا ہے. الله تعالیٰ ہم سب کو قرآنِ مجید پڑهنے، سمجهنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ نہ صرف بچوں کو قرآن (عربی ناظره) پڑهایا جائے بلکہ والدین کو چاہیے کہ وه کبهی کبهار آیات اور سورتوں کا ترجمہ بچوں کو سلیس زبان میں سمجها دیا کریں۔ ایسا کرتے وقت بچوں کی عمر اور سمجھ کو ملحوظ رکهتے ہوئے آیات اور سورتیں منتخب کیجیے۔ جو کچھ بچے کو بتایا جائے، کوشش کی جائے کہ گهر میں خود اس پر عمل کریں۔ بچوں کو ترغیب عمل سے ہوتی ہے نہ کہ تقریر سے۔

(حافظ صفوان محمد صوفیا کے شہر سے اٹھتی ہوئی آواز ہیں، جو اکیسویں صدی میں شاہ رکن عالم کی سنتِ محبت زندہ کر رہی ہے۔)

Categories
Urdu Articles

Musalmanoon ka Qatl-e-Aam Hadees ki Zubani

Musalmanoon ka Qatl-e-Aam Hadees ki Zubani

Musalmanoon ka Qatl-e-Aam Hadees ki Zubani

 

 

Musalmanoon ka Qatl-e-Aam Hadees ki Zubani

ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا…

“میری امت پر وہ وقت آنے والا ہے جب دوسری قومیں اس پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کهانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں…”

تو کسی نے پوچها:…”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. ..کیا اس زمانے میں ہماری تعداد اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں نگل لینے کے لئے قامیں متحد ہو کر ہم پر ٹوٹ پڑیں گی”

ارشاد فرمایا…”نہیں…اس وقت تمہاری تعداد کم نہ ہو گی بلکہ بہت بڑی تعداد میں ہو گے..البتہ تم سیلاب میں بہنے والے تنکوں کی طرح ہو گئے.تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب نکل جائے گا..اور تمہارے دلوں میں پست ہمتی گهر کر لے گی…”
اس پر ایک آدمی نے پوچها…یا رسول اللہ! یہ پست ہمتی کس وجہ سے آجائے گی؟…آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا…
“اس وجہ سے کہ تم دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کرنے لگو گے..”

Musalmanoon ka Qatl-e-Aam Hadees ki Zubani
حضرت ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا..
“بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اپنے گهوڑے کی باگیں پکڑے ہوئے اللہ تعالی کی راہ میں اسے اڑاتا پهرے.جہاں کسی خطرے کی خبر سنی گهوڑے کی پیٹه پر بیٹه کر دوڑ گیا..قتل اور موت سے ایسا بے خوف ہے گویا اس کی تلاش میں ہے..”

 

 

 

Categories
Urdu Articles

Malik bin denar rehmatullahi alaihe ka waqia

ایک دفعہ مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ کہیں جا رہے تھے کہ ایک خوبصورت باندی کو دیکھا کہ زرق برق کپڑے پہنے ہوئے نازوانداز سے جا رہی ہے…
آپ کے دل میں خیال آیا کہ اس کو نصیحت کرنی چاہیے.

چنانچہ آپ اس کے قریب ہوئے اور پوچھا اے باندی کیا تمہیں تمہارا مالک بیچنا چاہتا ہے..

اس نے کہا کیوں…؟

فرمایا میں تمہیں خریدنا چاہتا ہوں…

وہ باندی سمجھی کہ میرا حسن وجمال دیکھ کر اس بوڑھے کا دل بھی قابو میں نہیں رہا…اس نے اپنے ساتھ والے نوکروں سے کہا کہ اس بوڑھے کو ساتھ لے چلو ہم اپنے مالک کو یہ بات ضرور سنائیں گے…

چنانچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ان کے ساتھ چل دیئے.

جب مالک کے گھر پہنچے تو باندی نے ہنستے مسکراتے ٹھمک ٹھمک کر اپنے مالک کو واقعہ سنایا کہ ایک بوڑھا بھی مجھے دل دے بیٹھا ہے ہم اسے ساتھ لائے ہیں…

مالک نے حضرت رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا ارے بوڑھے میاں…
کیا آپ یہ باندی خریدنا چاہتے ہیں…؟
حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا…
ہاں..

مالک نے پوچھا کتنے میں خریدوں گے..؟

حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا…
دو خشک کھجوروں کے بدلے میں….

مالک یہ جواب سن کر حیران رہ گیا… پوچھنے لگا کہ اتنی تھوڑی قیمت کس مناسبت سے لگائی…

حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس میں عیب بہت ہیں…. ایک تو اس کا حسن فانی ہے ایک دن ختم ہو جائے گا…. دوسرا عنقریب بوڑھی ہوجائے گی منہ پر جھریاں پڑ جائیں گی تو دیکھنے کو دل نہیں کرے گا.. چند دن نہ نہائے تو جسم سے بو آنے لگے… سر میں جوئیں پڑ جائیں… منہ سے بھی بدبو آنے لگے… دانت گندے نظر آئیں… بال نہ سلجائے تو خوفناک شکل بن جائے….

پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ بےوفا ایسی ہے کہ آج تمہارے پاس ہے کل جب تم مرو گے تو کسی اور کے پاس چلی جائے گی..

مالک نے کہا یہ سب باتیں ٹھیک ہیں مگر آپ نے دو خشک کھجوروں کی قیمت کیسے لگائی…

حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے ایک خادمہ ملتی ہے جس کا حسن وجمال ہمیشہ ہمیشہ رہے گا… جب مسکرائے تو دانتوں سے نور کی شعائیں نکلیں… کپڑے ایسے کہ ستر ہزار رنگ جھلک رہے ہوں گے… اگر اپنے کپڑے کا پلو دنیا پر پھیلا دے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے… اگر مُردے سے ہمکلامی کر لے تو مُردہ زندہ ہو جائے.. باوفا اتنی کہ اس کے دل میں محبت کی لہریں اٹھتی مجھے خود نظر آئیں.. اگر کھارے پانی میں تھوک دے تو وہ میٹھا ہو جائے….

یہ باندی مجھے رات کے آخری پہر میں کھڑے ہو کر دو رکعت تہجد پڑھنے سے مل جاتی ہے..

اس مالک اور باندی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے…
مالک نے کہا حضرت آپ نے میری حالت بدل دی…
""" جزاک اللہ کہ چشمم باز کردی….
مرا با جان جاں ہمراز کردی…"""

(اللہ تجھے بدلہ دے کہ میں آنکھیں کھول دیں اور مجھے اپنے محبوب ک راز داں بنایا)

پھر اس باندی اور مالک نے سچی توبہ کر لی اور بقیہ زندگی نیکی کے ساتھ گزاری..

(عشق الہی)

Categories
Urdu Articles

Adab dua Ramadan ke mauqe ki munasbat se

ٓآداب ذکر

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔اَمَّابَعْدُ

فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّےْطٰنِ الرَّجِےٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍْمِ o بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِےْمِ o

(ےَااَیُّھَا الَّذِےْنَ آمَنُوااذْکُرُواللّٰہَ ذِکْرًاکَثِےْرًاo ) (الاحزاب:۴۱)

وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی (وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَےْہِ تَبْتِےْلاً o) (المزمل:۸)

صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَےِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ سَےِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ

انسان کی حقیقت

میرے معزز مسلمان بزرگو، عزیز بھا ئیواور امت مسلمہ کی مقدس ماؤں اور بہنوں !

اللہ رب العزت نے انسان کو تمام مخلوقات پر فوقیت بخشی ہے ،عزت بخشی ہے، احترا م بخشا ہے ۔اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔اب انسان کو صحیح طور پر جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کا علم حاصل کیا جائے کہ انسان کس چیز کا نا م ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ماہیت کیا ہے؟کیا صرف ہڈیو ں اور گوشت کے مجموعے کا نا م انسان ہے ؟کیادو آنکھوں اور دو ہاتھوں کی حامل شخصیت کا نا م انسان ہے؟ نہیں بالکل نہیں انسان کے ظا ہری ڈھا نچے پر انسا ن کی تعریف مکمل طور پر صادق نہیں آتی ۔

اگر اس ظا ہری ڈھا نچے کو انسا ن کہا جا ئے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کے مر جانے کے بعد اس ظاہری جسم کی ملکیت اس کے اختیار سے کیو ں نکل جا تی ہے؟ اسے مرنے کے بعد انسان کیو ں نہیں کہا جا تا؟ حالانکہ ظاہری ڈھانچہ تو اس وقت بھی موجود ہوتا ہے لیکن اس وقت یہ کہا جا تا ہے کہ یہ میت ہے ، لا ش ہے۔ اس کے سارے اختیا رات اس سے چھن جاتے ہیں، اس کی جائیداد تقسیم ہو جاتی ہے ،یہا ں تک کہ وہ خدام جو ساری زندگی اس کے اشارے کے تا بع ہو تے تھے ، وہ بھی اب دوسرو ں کے اشارے کے انتظار میں ہوتے ہیں ۔

مرنے کے بعد پیش آنے والے ان معاملات سے یہ با ت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ صرف گوشت پوست کے مجموعے کا نا م انسان نہیں ہے، کو ئی اور چیز بھی ہے جسے حقیقت میں انسان کہا جاتا ہے اور وہ اس کے اندر کا انسان ہے ۔یا یو ں کہئے کہ انسان کی ایک ظاہری دنیا ہے اور ایک با طنی دنیا ہے ۔ان دونو ں کے مجموعے سے مل کر مکمل انسان تشکیل پاتاہے ۔ ان دونوں میں سے زیا دہ اہمیت کا حامل اندر کا انسان ہے اس لئے کہ جب اندر کا انسان مردہ ہو جا ئے تو لوگ اس ظاہری انسان (ظاہری جسم)کو بھی مردہ قرار دے دیتے ہیں اور اسے قبرستان پہنچا دیتے ہیں ۔

انسانی بقا کا محور

جس طرح انسان کے ما دی جسم کے زندہ رہنے کے لئے غذا ضروری ہے کہ اگراسے غذا ملتی رہے گی تو اس میں قوت با قی رہے گی ،یہ ما حول میں پھیلنے والے جراثیم کا مقا بلہ کر تا رہے گا،اس کے اندردفاع کی قوت موجود رہے گی۔ فضاؤں میں بکھرے ہوئے جرا ثیم اس پر زیا دہ اثر انداز نہیں ہو ں گے، اس لئے کہ اسے موقع بہ موقع غذا مل رہی ہے ، وہ غذا اس کے جسم کو لگ رہی ہے، اور اسے قوت و توانائی حا صل ہو رہی ہے۔ مختلف قسم کے وبائی امراض کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اس کے پا س قوتِ دفا ع مو جو د ہوتی ہے۔وہ بیما ریو ں کو جلدی قبول نہیں کر تا، اگر کو ئی بیما ری حملہ آور ہو جا ئے تو اس کی اندرونی دفاعی قوت اس بیماری کا مقابلہ کرتی ہے ۔

اسی طرح میرے عزیزو! ایک با طن کی زندگی ہے، با طن کا جہاں ہے، روح اور دل ہے،اس کی بھی غذا ہے، اس کو بھی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔جب اس باطنی زندگی کو اس کی غذا ملتی رہے گی ،توا نا ئی ملتی رہے گی تو اس با طنی زندگی اور روحا نی زندگی کے اندر قوت دفا ع مو جو د رہے گی۔ پھر سوسائٹی اگراسے غلط رخ پر لے جانا چاہے گی تو اندر کا دفا عی نظام اسے محفوظ رکھے گا۔ اس کے دوست اسے غلط رخ پر لے جا نا چاہیں گے تو باطنی توا نا ئی اس کے کا م آجا ئے گی۔ راہ چلتے اگراس کی آنکھیں بھٹکنے لگیں گی تو اندر کی توا نا ئی اس کی پلکو ں کو جھکا دے گی۔ محفل کے اندر غیبت ہو رہی ہو گی تو اندرونی تو ا نا ئی اس کی زبا ن کوروک لے گی۔ غلط با ت سننے کا ما حول ہو گا تو اندر کی توانا ئی اس کے کا نو ں کو محفو ظ کر دے گی۔ اندھیرے میں ہو گا اور گناہ پر پوری قدرت رکھتا ہوگا لیکن اس کے اندر کی توانائی اسے یہاں بھی محفوظ رکھے گی ۔

اللہ کا ذکر ،روحانی غذا

اس روحانی زندگی کی ایک غذا اللہ رب العزت نے اپنی یا د کو بنا یا ہے، اللہ کو یا دکرنا ،اللہ کا ذکر کرنا ،یہ با طنی زندگی کی غذا ہے، جب اللہ رب العزت کسی کو یہ غذا نصیب فر ما دیں تو پھر آدمی کا با طن محفوظ ،مضبوط اور پا ئیدار بنتا ہے ۔

تمام انسا ن عام طور پر دو طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔ پہلی گناہوں سے پاک زندگی اور دوسری گنا ہو ں میں ڈوبی ہوئی زندگی۔ دونوں طرز کی زندگی گزارنے والے ایک ہی سوسائٹی کے اندر زندگی بسر کر رہے ہیں،ایک ہی با زار میں تجارت کر رہے ہیں، ایک ہی انداز میں ما ل کما رہے ہیں لیکن ایک گنا ہو ں کی آلودگیوں سے محفوظ ہے اور دوسرا گنا ہو ں میں پڑا ہوا ہے ۔

اندرونی قوت کی کمزوری

میرے عزیزو! اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ایک کو اللہ نے اپنی یا د عطا فرمائی ہے اور دوسرا اس سے محروم ہے۔ بسا اوقات ہمیں بھی اس بات کی فکر ہو تی ہے ،احساس ہو تا ہے کہ استقا مت نہیں مل رہی۔ مجلس میں شریک ہو تے ہیں تو طبیعت بڑی مچلتی ہے، سوچ پیدا ہو تی ہے کہ اب اللہ کی فرما نبرداری والی زندگی گزاریں گے ، اللہ کی نا فرمانی نہیں کریں گے لیکن جیسے ہی با ہر کی زندگی میں پہنچتے ہیں تو سارے جذبات ماند پڑ جاتے ہیں،ہمتیں پست ہو نے لگتیں ہیں ،ارادے کمزور پڑ جاتے ہیں،حالات کا مقابلہ کر نے سے گھبرانے لگتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اندرونی دفاعی قوت موجو د نہیں ہے ۔چونکہ باطنی زندگی کی غذا حاصل نہیں کی اس لئے اندر کی دفاعی طاقت بالکل کمزور ہے ۔ جب تک آدمی اس غذا کو استعما ل کر تا رہتا ہے اس کے اندر یہ توانائی موجود رہتی ہے اور روحانی زندگی کی ایک قوی غذا اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے ۔

ذکر کی عادت بنائیں

اللہ رب العزت نے ایما ن والوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے :

( ےَااَیُّھَاالَّذِےْنَ آمَنُوْااذْکُرُو اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِےْرًا ) (الاحزاب:۴۱)

اے ایمان والو! تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

انتہائی زبردست اور پیا راجملہ ارشاد فرما یاہے۔اس جملے کو سننے کے بعد کو ئی تاجر یہ نہیں کہہ سکتا کہ’’میں ذکر نہیں کرسکتا، ذکر کرنے والے تو نیک لوگ ہو تے ہیں ‘‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کرنے کے لئے نیکی کی شرط نہیں لگا ئی ۔ کوئی مرد یہ نہیں کہہ سکتا کہ عورت کے پا س وقت کی فرا غت ہو تی ہے اس لئے وہ ذکر کرسکتی ہے ،میں تو بہت مصروف آدمی ہوں،میرے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے اس لئے میں ذکر نہیں کر سکتا۔اللہ رب العزت نے فر ما یا :

’’ارے! اگر تم صاحب ایما ن ہو تو میرا حکم تما م ایما ن والو ں کے لئے ہے۔ چا ہے تم تا جر ہو یامزدور ،چا ہے تم جوان ہویابوڑھے ،چا ہے تم امیر ہو یا غریب ،چا ہے تمہارے پا س دنیا زیا دہ ہویا کم ،ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو۔ ‘‘

عقل والے کون ؟

اللہ تعالیٰ کے ہاں عقلمند اور صاحبِ بصیرت کون ہے؟ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

( اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًاوَّقُعُوْدًاوَّ عَلیٰ جُنُوْ بِھِمْ ) (آل عمران:۱۹۱)

وہ لوگ جواللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں کھڑے بھی ،بیٹھے بھی ،لیٹے بھی ۔

اللہ رب العزت کے ہا ں عقلمندوں کا معیا ریہ مقرر کیا گیا ہے کہ عقل مند وہ ہیں جو اپنے محسن حقیقی کو کبھی بھولا نہیں کرتے ۔کھڑے ہوں تب بھی اسی کو یاد کرتے ہیں ، بیٹھے ہوں تب بھی اسی کو یاد کرتے ہیں، کروٹو ں پر بھی اسی کو یا د کرتے ہیں ،کسی حال میں بھی اپنے اللہ کو بھولتے نہیں ہیں ۔

آج دنیا والو ں کے ہا ں توعقلمندی کے پیمانے ہی بدل گئے ہیں، ان کے ہاں انسا نیت کو پرکھنے کے معیا رہی بدل گئے ہیں کہ جس کے پا س دولت زیا دہ ،بینک بیلنس خوب،بڑی گا ڑی اور بڑی کو ٹھی ہو ،وہ بڑا عقل مند سمجھا جاتا ہے جبکہ اللہ رب العزت کے فرمان کے مطابق عقل والے تووہ ہیں جو کسی حال ، کسی وقت اورکسی بھی جگہ میں اپنے پیدا کرنے والے کو نہیں بھولتے ۔

اللہ کسے یاد کرتا ہے ؟

میرے دوستو!

ذکر انمول دولت ہے اس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے :

( فَاذْکُرُوْ نِیْ اَذْکُرْکُمْ) (البقرۃ :۱۵۲)

پس( ان نعمتوں پر) تم مجھے یاد رکھومیں تم کو(عنایت سے )یاد رکھوں گا۔

اگرذکر کی یہی ایک فضیلت ہو تی توبھی ذکر کی اہمیت کے لئے کسی اور فضیلت کی ضرورت نہیں تھی کہ اللہ رب العزت فرمارہے ہیں تم مجھے یا د کرو گے میں تمہیں یا د کروں گا ۔حضرت ابو عثما ن رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مر تبہ فر ما یا کہ جب اللہ تعالی مجھے یا د کرتے ہیں تو مجھے پتہ چل جا تا ہے۔ کسی نے پو چھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے ؟ انہوں نے فرما یا کہ

’’ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں وعدہ فرما یا ہے کہ جب تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا اس لئے میں جب بھی اللہ کو یا د کر تا ہو ں تو یقین کر لیتا ہوں کہ اللہ بھی مجھے یاد کر رہاہے ۔‘‘

اللہ کو یاد کرنے کے فائدے

حضور اکرم ا کا ارشاد ہے :

’’ تَعَرَّفْ اِلٰی اللّٰہِ فِی الرَّخَاءِ ےَعْرِفْکَ فِی الشِّدَّۃِ ‘‘

(ترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ،ج۲،ص۷۸)

تم خوشحالی اور آسانی میں اللہ کو یادکرو،وہ تمہیںآزمائش کی گھڑی میں یاد کرے گا۔

اگرہم خوشحا لی میں اللہ کو یاد کریں گے تو اللہ ہمیں تنگ دستی میں بھی نہیں بھولے گا ،اگر ہم عافیت میں اللہ کو یا د کریں گے تو اللہ مرض کے اندر بھی ہمیں فرا موش نہیں کرے گا اور قسم خدا کی اگر ہم دنیا کے اندر اللہ کو یا د کریں گے تو اللہ آخرت میں ہمیں یاد رکھے گا۔

عرش کا سایہ کسے ملے گا؟

حدیث میںآتا ہے کہ آپ انے ارشاد فرما یا:

’’ سَبْعَۃٌ ےُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ ےَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ ‘‘

سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ عطافرمائیں گے ۔

ان میں سے ایک وہ آدمی بھی ہو گاجس نے

’’ رَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیاً فَفَا ضَتْ عَیْنَا ہُ ‘‘

(مشکوۃ ،باب المساجدوموا ضع الصلوۃ،ص۶۸)

خلوت میں اللہ کو یا د کیا اور اللہ کی محبت میں اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

جوخلوت میں اتنی چاہت اور لگن کے ساتھ اللہ کو یا د کر رہا ہوکہ اللہ کی محبت اور عظمت کی وجہ سے اس کی آنکھو ں سے آنسو بہہ رہے ہوں۔ اللہ کے ہا ں اس ذکر اور ان آنسوؤوں کی اتنی قیمت ہے کہ کل قیا مت میں جب کہیں سایہ نہیں ہو گا تواللہ تعالیٰ اسے اپنے عرش کا سایہ نصیب کریں گے۔

میرے عزیزو! یہ غذائیت اور توانائی ہے۔ اگر کو ئی آدمی اس غذاکو صحیح طریقے سے حاصل کر لے تو اس کے اندر قوت اور طاقت پیدا ہو تی ہے، پھر وہ ایما ن والی زندگی گزار سکتا ہے ،پھر وہ سوسائٹی کے غلط اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔

آداب کی رعایت ضروری ہے

میرے عزیزو !ذکر کے بھی کچھ آداب ہیں ،اگر ان آداب کی رعایت رکھی جائے گی تو یہ ذکر غذائیت کا کام دے گا،اس سے توانا ئی حاصل ہوگی اور اگر ان آداب کی رعایت نہ رکھی گئی تب بھی اجر توملے گالیکن یہ غذائیت کا کام نہیں دے گا ،اس سے توانائی حاصل نہیں ہوگی ۔

ذکر کی مقدار مقررکریں

ذکر کاپہلا ادب یہ ہے کہ ذکر کچھ خاص مقدار میں ہو، کم ازکم اتنا تو ہو کہ اس سے کچھ توانا ئی حاصل ہو جا ئے۔ جیسے انسان کے ما دی جسم کے لئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے اور شدید بھوک کی حالت میں کوئی اسے ایک لقمہ پکڑا دے تو وہ کیا کہے گا؟ یہی کہ ارے میاں! اتنا تو دو کہ پیٹ بھر جا ئے ،کچھ سیرابی حاصل ہو جا ئے۔شدید پیاس کی حالت میں کوئی اسے ایک گھونٹ پانی دے دے تو وہ کیا کہے گا؟یہی کہ ارے میاں! اتنا تو پلادو کہ پیا س کی شدت ختم ہوجائے،کچھ تشنگی تومٹ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے اس ما دی جسم کے لئے غذا کی کچھ خاص مقدار چاہئے ایسے ہی باطنی زندگی کے لئے بھی اللہ کے ذکر کی کچھ نہ کچھ خاص مقدار ہونی چاہئے لیکن ظا ہر ہے اس مقدار کے مقرر کرنے کے لئے آپ کسی اللہ والے سے مشورہ بھی کرتے ہیں ، جیسے آپ کسی طبیب کے پا س کو ئی اچھا سا خمیرہ بنوانے کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تو اس سے اس بات کا مشورہ بھی کر لیتے ہیں کہ ایک دن میں اس کی کتنی مقدار استعمال کی جائے ؟ حالا نکہ وہ خمیرہ غذائیت کے لئے ہوتاہے ،طا قت کے لئے ہوتاہے لیکن آپ ایسا نہیں کرتے کہ سارا خمیرہ ایک ہی دن میں کھالیں اور طبیب کے مشورے پر عمل ہی نہ کریں ،اس لئے کہ اگر ایسا کریں گے تو کیا ہو گا؟ دما غ کے اندرخشکی ہو جا ئے گی۔ طبیب ایک مقدار بتا تا ہے کہ میا ں روزانہ اتنی مقدار استعمال کرو یہی تمہا ری صحت کا تقا ضا یہ ہے اور یہی تمہارے لئے منا سب ہے ۔

مقدارِ ذکر مشورے سے مقرر کریں

اسی طرح اللہ رب العزت کسی کو کو ئی مربی نصیب فرما دیں ،روحانی زندگی کے لئے کوئی معالج عطا فرمادیں اور وہ اس سے پوچھے کہ آ پ میرے لئے ذکر کی کتنی مقدار مناسب سمجھتے ہیں؟ تووہ مربی اسے اس کے حال کے مناسب ذکر کی مقدارتجویز کردے کہ تمہاری روحانی صحت کا تقا ضا یہ ہے کہ تم روزانہ اتنا ذکر کیا کرو تو پھر اسے چاہئے کہ روزانہ اتنی ہی مقدار میں ذکر کیا کرے جو اس کے لئے اس کے مربی اور معالج نے تجویز کی ہے سوائے اس کے کہ وہ سفر میں ہو یا بیما ر ہو تو پھر اگر مقدار میں کمی بھی ہو جائے تو کو ئی با ت نہیں۔ جیسے سفر میں آدمی بسا اوقات صرف چا ئے پر گزارا کرلیتا ہے ، صرف بوتل پر گزارا کر لیتا ہے ،کھا نا نہیں کھا تا ،یا جب بیما ر ہوتا ہے توبھی اس کی غذا کے اندر کمی آجاتی ہے لیکن عام حالت کے اندر اپنی غذا میں کوئی کمی نہیں کرتابلکہ پوری پوری غذا استعما ل کرتا ہے۔ اسی طرح میرے دوستو !اگر سفر یابیماری کی وجہ سے ذکر کی مقررہ مقدار میں کوئی کمی آجائے تو کوئی بات نہیں لیکن عام حالات میں اس مقدار میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے ۔

ذکر کی کیفیت کیا ہونی چاہئے؟

دوسراادب یہ ہے کہ ذکر کیفیت کے ساتھ کیا جائے ۔مطلب یہ ہے کہ ذکر کرتے وقت ایسی کیفیت بنائی جائے جس سے دھیان پیدا ہو۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ پانی ہو تو اتنا ہو کہ سیراب ہوجائیں اور ہو بھی ٹھنڈا ،یا چاہتے ہیں کہ کباب ہوں اور اتنی مقدار میں ہوں کہ پیٹ بھر جائے اور ہوں بھی گرم گرم یعنی دونوں چیزوں کی رعایت رکھتے ہیں۔ مقدار کی بھی اور کیفیت کی بھی کہ اتنی مقدارہو جس سے کچھ کام بن جائے اور ایسی حالت میں ہو کہ اچھا بھی لگے ۔

اسی طرح میرے دوستو !ذکر کی بھی مقدار مقررہونی چاہئے اور ساتھ ساتھ ذکر کی کیفیت بھی ہونی چاہئے۔ اب کیفیت کیا ہونی چاہئے؟ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر جہاں بھی ذکر کی تلقین فرمائی تو دو الفاظ میں سے ایک لفظ ضرور استعمال فرمایاہے۔پہلا لفظ جو استعمال فرمایا وہ ’’اللہ‘‘ کا لفظ ہے کہ اے ایمان والو!اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا کرو۔ ارشاد باری ہے :

( ےَااَیُّھَا الَّذِےْنَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِےْرًا ) (الاحزاب:۴۱)

اے ایمان والو !تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

دوسرا لفظ جو استعمال فرمایا وہ ’’رب ‘‘کا لفظ ہے کہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔ارشاد ربانی ہے :

( وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَےْہِ تَبْتِےْلاً ) (المزمل:۸)

اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہو اور سب سے قطع کر کے اسی کی طرف متوجہ رہو ۔

تو دو لفظ استعمال فرمائے۔ ’’اللہ‘‘ اور’’ رب‘‘یہ دونوں لفظ ہمیں کچھ سمجھا رہے ہیں ،کچھ بتا رہے ہیں کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام کمالات اور خوبیوں سے آراستہ ہے ، ساری قدرتوں کی مالک ہے ، تمام چیزوں کی خالق ہے ۔

تمام خوبیوں کا مالک کون؟

کائنات میں جو کچھ ہے،تھا اور جو کچھ آئے گااور دنیا میں انجام پانے والے سارے اعمال،تمام مخلوقات اور ان کے تمام امور کا مالک اللہ ہی ہے۔اللہ کو پہچاننے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ مالکِ کل اور مختارِ کل ہے ۔ساری دنیا کا اختیاراسی کے ہاتھ میں ہے۔ قرآن کریم میں ان تمام امور کو اللہ نے مختلف انداز میں بیان کیا ہے:

( اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ ) (الزمر:۶۲)

اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا۔

اللہ کون ہے ؟اللہ وہ ذات ہے جس نے ساری چیزوں کو پیدا فرمایا۔

( اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ) (الانعام:۹۵)

بے شک اللہ تعالی پھاڑنے والا ہے دانوں کو اور گٹھلیوں کو۔

اللہ کون ہے ؟اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت سے گٹھلی توڑ تا ہے ، دانے کو پھاڑتا ہے اور اس کے اندر سے کونپل نکالتا ہے۔

( اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّصَوَّرَ کُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَ رَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّےِّبَاتِ ) (المومن:۶۴)

اللہ ہی ہے جس نے زمین کو (مخلوق کی) قرار گاہ بنایا اور آسمان کومثل چھت کے بنایا اور تمہارا نقشہ بنایا،سو عمدہ نقشہ بنایا اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کودیں۔

ا للہ کون ہے؟اللہ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے ٹھہر نے کے لئے بنایا ، جس نے آسمانوں کو تمہارے لئے چھت بنایا ،جس نے تمہاری خوبصورت شکلیں بنائیں،جس نے تمہیں پاکیزہ روزی عطافرمائی۔

( وَےَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ ) (التغابن:۴)

اور سب چیزوں کو جانتا ہے جو تم پوشیدہ رکھتے ہو۔

اللہ کون ہے ؟ اللہ وہ ہے جو وہ تمام چیزیں اور اعمال جانتا ہے جنہیں تم خلوتوں میں ،اند ھیروں میں چھپ کر کرتے ہو ۔

( اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ) (النور:۳۰)

بے شک اللہ تعالی کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔

اللہ کو ن ہے؟ اللہ وہ ہے جو ان تمام سوچوں اور خیالات سے باخبر ہے جنہیں تم اپنے دل ودما غ کے اندربنا تے ہو ،تخلیق کرتے ہو ۔

( وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْ بِکُمْ ) (الاحزاب:۵۱)

اور خدا تعالیٰ کو تم لوگوں کے دلوں کی سب باتیں معلوم ہیں۔

اللہ کو ن ہے ؟اللہ وہ ہے جو تمہا رے دلو ں میںآنے والے خیا لا ت بھی جانتا ہے۔

( اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ) (الزمر:۵۳)

بالیقین اللہ تعالی تمام (گذشتہ)گناہوں کو معاف کردے گا۔

اللہ کو ن ہے؟اللہ وہ ہے جو سارے گنا ہو ں کو معا ف کر نے وا لا ہے ۔

( وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلیٰ دَارِالسَّلَا مِ ) (یونس:۲۵)

اور اللہ تعالی تم کودار بقاء کی طرف بلاتا ہے۔

اللہ کو ن ہے؟اللہ وہ ہے جو تمہیں دارالسلا م یعنی جنت کی طرف بلا تا ہے ۔

( وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلٰی الْجَنَّۃِ وَا لْمَغْفِرَۃِ بِاِ ذْنِہٖ ) (البقرۃ:۲۲۱)

اور اللہ تعالی اپنے حکم سیجنت اور مغفرت کی دعوت دیتے ہیں ۔

اللہ کو ن ہے ؟اللہ وہ ہے جو تمہیں جنت اور اپنی مغفرت کی طرف بلا تا ہے۔

(اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِن السَّمَاءِ مَاءً ) (الزمر:۲۱)

کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالی نے آسمان سے پانی برسایا۔

اللہ کو ن ہے ؟اللہ وہ ہے جو آسما ن سے بارش برسا تا ہے۔

( اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ) (المائدۃ:۱)

بے شک اللہ تعالیٰ جو چاہیں حکم کریں ۔

اللہ کو ن ہے؟ اللہ وہ ذات ہے جو اپنی مرضی سے فیصلہ کر تی ہے ۔

( وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَامُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ ) ( الرعد:۴۱)

اور اللہ جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں ۔

اللہ کو ن ہے ؟اللہ وہ ہے کہ جب وہ فیصلہ کر لیتا ہے تودنیا کی کو ئی طا قت اس کے فیصلہ کو رد نہیں کر سکتی ۔

( اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَا باً ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَاْماً فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ) (النور:۴۳)

کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالی (ایک) بادل کو(دوسرے بادل کی طرف) چلتا کرتا ہے (اور) پھر اس بادل (کے مجموعہ) کو باہم ملا دیتا ہے پھر اس کو تہہ بہ تہہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس (بادل) کے بیچ میں سے نکلتی ہے۔

اللہ کو ن ہے؟اللہ وہ ہے جو ہوا ؤوں کے ذریعے با دلو ں کو چلا تا ہے، پھر انہیں بکھیر دیتا ہے ،پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر ان میں سے رحمت کی با رشیں برساتا ہے۔

( اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (الزمر:۵۳)

واقعی وہ بڑا بخشنے والا اور بڑارحم کرنے والا ہے ۔

اللہ کون ہے ؟اللہ وہ ہے جو بخشتا بھی ہے اور رحم بھی کرتاہے۔

( وَہُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ ) (النحل:۱۴)

اور وہ ایسا ہے کہ اس نے دریا کو( بھی) مسخر بنادیا ہے ۔

اللہ کون ہے ؟اللہ وہ ہے جس نے تمہا رے لئے سمندر بھی مسخر کر دیئے کہ تم عا فیت کے ساتھ اس پر کشتیا ں چلا تے ہو اور اللہ کا رزق تلا ش کر تے ہو۔

کیفیت سے کیا مراد ہے؟

ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ ایک بات سمجھانا چاہ ر ہے ہیں کہ

( ےَااَیُّھَا الَّذِےْنَ آمَنُوْااذْکُرُواللّٰہَ ذِکْرًاکَثِےْرًا ) (الاحزاب:۴۱)

اے ایمان والو !تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

اللہ کا ذکر کرو اور کیفیت کے ساتھ کرو۔کیفیت کا مطلب یہ ہے کہ عظمت کے ساتھ اللہ کا نا م لو ،جیسے ہم کباب گرم چا ہتے ہیں ،پا نی میٹھا اورٹھنڈا چا ہتے ہیں، ایسے ہی جب اللہ کا ذکر کریں تو اللہ کی ان عظمتو ں کا لحاظ کر کے کریں اور یہ سوچیں کہ میں کسے یا د کر رہا ہو ں؟ میں کسے آواز دے رہا ہو ں؟وہ جو میرے دل کی آہو ں کو بھی سن رہا ہے، جو میری فریا دوں کو بھی سن رہا ہے، جو میری ضرورتو ں سے بھی واقف ہے اور وہ ایسا ہے کہ کا ئنا ت کا ہر ذرہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہے، کا ئنا ت کی ہر چیز اس کے ماتحت ہے ،وہ نفع دینے پر آئے تو دنیا کی کو ئی طا قت نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اگر وہ آزما ئشوں میں ڈالنا چا ہے تو دنیا کی کو ئی طا قت ان آزما ئشوں سے بچا نہیں سکتی۔ اس طرح جب اللہ کی عظمت کے ساتھ اللہ کو پکا ریں گے تو پھر یہ ذکر بھی اثر کرے گا ۔

اللہ سب سے بڑا محسن

میرے عزیزو! قرآن کریم میں ذکر کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک لفظ تو ’’اللہ ‘‘کا استعمال کیا گیا ہے اور دوسرا لفظ ’’رب‘‘کا استعمال کیاگیا ہے ۔ارشاد ربانی ہے:

(وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَےْہِ تَبْتِےْلاً ) (المزمل:۸)

اور اپنے رب کا ذکر یاد کرتے رہو اور سب سے قطع کر کے اسی کی طرف متوجہ رہو ۔

اپنے رب کے نا م کا ذکر کرو۔ پہلے’’ اللہ‘‘ کہا اوراب’’ رب‘‘ کہا ،رب کے اندر بھی ایک اشارہ مل رہا ہے۔ جیسے ما ں با پ اپنے بچے کو پا لتے ہیں تو بچے کے دل کے اندر ما ں با پ کی محبت پیدا ہو تی ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ ماں باپ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں توگو یا کہ اللہ بھی یہ فرما رہے ہیں کہ میرا نا م لو میری عظمت کے ساتھ، میری محبت کے ساتھ اس لئے کہ میں تمہارا رب ہوں۔

میرے عزیزو! اگرکو ئی آدمی ذکر کی مقداربھی پو ری کرے اور اس کیفیت (یعنی اللہ کی عظمت اور محبت )کے ساتھ اللہ کا نا م لے تو پھر دیکھئے کہ اس کی زندگی میں کیسی توا نا ئی آتی ہے، کیسی قوت آتی ہے۔ پھر توایسا آدمی بڑے بڑے فتنوں میں بھی ثابت قدم رہتا ہے، بڑے بڑے مصا ئب میں بھی استقا مت کا مظاہرہ کرتاہے، بڑے بڑے اندیشوں میں بھی اللہ کے ذکرکی برکت سے بے خوف ہو جا تا ہے ۔

ہرلمحہ اللہ کاذکر کریں

میرے دوستو!ذکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنی راہ میں جان دینے کے جذبے سے لڑنے والے مجا ہدین سے ارشاد فرما یا کہ دیکھو میدان جہاد میں خوف والی حالت ہوتی ہے ، ماحول دہشت زدہ کرنے والا ہوتا ہے ،جان خطرے میں ہو تی ہے جس سے تمہاری ثابت قدمی متاثر ہوسکتی ہے اور میدان جہاد سے فرارکا خطرہ بھی ہوتاہے ، اس لئے تم ایسا کیا کرو کہ جب دشمن تمہارے سامنے آجائے تو تم اللہ کا ذکر شروع کردیاکرو۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

( یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْااِذَالَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْاوَاذْکُرُواللّٰہَ ) (التوبہ:۴۵)

اے ایمان والو!جب تم کو کسی جماعت سے (جہاد میں) مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے تو (ان آداب کا لحاظ رکھو۔ ایک یہ کہ )ثابت قدم رہو اور اللہ کا خوب کثرت سے ذکر کرو۔

جب تم تلواریں نیا موں سے با ہر دیکھو، دشمن کی فوج تمہا رے سامنے ہو تو تم اپنے اللہ کو اس کی عظمت کے ساتھ یاد کرو ، سارے خوف کافور ہوجائیں گے ، ساری پریشانیاں کافور ہوجائیں گی، دنیا کی ساری طاقتیں تمہیں مکڑی کا جالا نظر آئیں گی ۔

سب سے زیادہ طاقتور کون؟

جب اللہ کو اس کی عظمت کے ساتھ یاد کریں گیکہ اللہ سب سے بڑا ہے اوردنیا کی جتنی بھی بڑی بڑی طاقتیں ہیں ، جتنی بھی طاقتور چیزیں ہیں،وہ سب چھوٹی ہیں توپھر دنیاوی طاقتوں اور لوگوں سے ڈر نہیں لگے گا۔ آپ اپنے دماغ میںیہ تصور بٹھائیں کہ دنیا میں فلا ں طاقت بہت بڑی ہے اور پھر اللہ کے بارے میں سوچیں کہ اللہ اس سے بھی بڑا ہے اور اللہ صمد (بے نیاز)بھی ہے،جب دینے پر آتا ہے تو بغیر اسباب کے بھی عطا کر دیتا ہے۔وہ اپنی قوت اور طاقت میں یکتا ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس کی شریک نہیں ہے تو آپ اپنے اندر ایک انجانی سی طاقت محسوس کریں گے۔ تواس اللہ کو ایک مقدار کے ساتھ ، ایک کیفیت کے ساتھ یاد کریں ۔ وہ کیفیت یہ ہے کہ دل میں اللہ کی عظمت اور اس کی محبت کو بٹھالیں۔خداکی قسم! اگر یہ دولت نصیب ہوجائے تو پھر مسلمان ہرقسم کے خوف سے محفوظ زندگی گزارسکتا ہے ،جس خوف نے آج ہماری زندگی کو گھیر رکھا ہے ،ایک انجانا سا خوف کہ کل کیا ہوگا؟ میرا کیا بنے گا؟ کاروبار کا کیا ہوگا؟ کل حالات کا کیا ہوگا؟ ارے! اللہ تیرے ساتھ ہے ،اگر اس کی محبت اور عظمت دل میں ہے تو کوئی خوف بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

میرے عزیزو!ہمارا تو یہ حال ہے کہ نماز پڑھتے ہیں تو بھی یادیں غیروں کی ہوتی ہیں۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ساری دنیا ہمیں یاد آتی ہے ،نہیں آتا تو صرف اللہ یاد نہیں آتا ، اپنا محسن حقیقی یاد نہیں آتا ۔ ساری دنیا کے ساتھ بات کرنے کے لئے ہمارے پاس وقت ہے، فرصت ہے اگر نہیں ہے تو ایک اللہ کو یاد کرنے کا ،اس سے باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے، اس سے گفتگو کرنے کی فرصت نہیں ہے ۔

میرے عزیزو! اگر اللہ کو اس کی شان کے ساتھ یاد کریں کہ اللہ باعظمت ذات ہے ،محبوب ذات ہے توپھر یہ ذکر دل پر نقش ہوا کرتاہے پھراس سے تو ا نا ئی حاصل ہواکرتی ہے ۔

ایک خوبصورت مثال

حضرت شاہ ولی اللہرحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کے بارے میں ایک بہت خوبصورت مثا ل دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب ذکر اپنی کمیت اور کیفیت کے ساتھ کیا جا ئے تو پھر یہ دل میں ایسا بیٹھتا ہے کہ جیسے دیہا ت میں سروں پر پانی کے مٹکے رکھ کر چلنے والی عورتوں کے سروں پر رکھے ہوئے مٹکے۔ان میں سے بعض عورتیں اپنے سر پر تین تین مٹکے اٹھا ئے ہو ئے ہو تی ہیں۔ چلنے کا راستہ بھی ناہموار ہو تا ہے اور وہ کبھی اوپرچڑھتی ہیں کبھی نیچے اترتی ہیں، سہیلیوں سے با تیں اور ہنسی مزاح بھی چل رہا ہو تا ہے لیکن ان کے دل میں ایک با ت بیٹھی ہو ئی ہو تی ہے کہ ہمارے سر وں پر مٹکے ہیں اور ان میں پانی ہے۔یہ خیال ان کے ذہنوں سے کسی وقت بھی نہیں چھٹتااور وہ انتہائی احتیاط سے ان مٹکوں کو گھر تک پہنچا تی ہیں۔

ذکر کی حقیقت

میرے دوستو! جب اس کیفیت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جا تا ہے تو وہ دل میں ایسا بیٹھتا ہے کہ پھر چاہے یہ شخص بیوی بچوں کے ساتھ ہو، کا روبا ر میں ہو، معاملات کر رہا ہو یا دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہو،ہر حال میں ایک خیال اس کے دل ودماغ کے اندر ہر وقت موجود رہتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر ایسا شخص اولادکے ساتھ زیا دتی نہیں کرتا، بیوی کے سا تھ زیادتی نہیں کرتا۔اگربیوی کے دل کے اندر یہی کیفیت آجا ئے تو وہ اپنے میاں کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گی۔ ساس کے دل میں آجائے تو وہ اپنی بہو پر ظلم نہیں کرے گی ۔بہو کے دل میں آجائے تو وہ اپنی ساس کو نہیں ستا ئے گی، اگر مزدور کے دل میں آجائے تو وہ اپنے مالک کے ما ل میں خیا نت نہیں کر ے گا۔اگر ما لک کے دل میں آجائے تو وہ اپنے ملازم اور ماتحت سے زیا دتی نہیں کرے گا۔ اس طرح سب لوگوں کی زندگی سنور جا ئے گی ۔

غفلت اختیار نہ کریں

ایسے ہی لوگوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا:

( رِجَا لٌ لَّا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ) (النور:۳۷)

ایسے لوگ ہیں کہ جن کو اللہ کے یاد سے نہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے اور نہ فروخت۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تجا رت بھی کرتے ہیں ،خریدو فروخت بھی کر تے ہیں، ما ل کا لین دین بھی کرتے ہیں لیکن یہ ساری چیزیں انہیں اللہ کی یا د سے غا فل نہیں کرتیں ۔یہ کیا ہے ؟ یہ اسبات کی نشانی ہے کہ دل میں ذکر نقش ہو چکا ہے۔

ارے میرے عزیزو! اللہ کے پیارے بندے تو با زاروں میں بیٹھ کر بھی اللہ کی یادسے غافل نہیں ہوتے تھے ،تجارت میں مشغول ہوکر بھی اللہ کے ذکرسے غافل نہیں ہوتے تھے اور ہم کتنے محروم ہیں کہ مسجدکی صفوں میں کھڑے ہوکر بھی ہمیں اللہ یاد نہیں آتا،نماز پڑھتے ہوئے بھی اللہ سے غافل ہیں ،اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر بھی با زار کو سوچتے ہیں ۔ہمارے اور ان کے درمیان فرق کی وجہ ہی یہی ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں پر محنت کی تھی اور اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں بٹھالیاتھا اور ہم نے محنت ہی نہیں کی ،اللہ کو حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔

ذکر کا اہتمام کریں

میرے دوستو !اگر ہم واقعی چا ہتے ہیں کہ غذائیت اورتوانائی حاصل ہو جو ہمیں اس سوسائٹی کے اندر چلا ئے ،معا شرے کے اندر چلا ئے، ہم حالات کامقابلہ کر سکیں، گنا ہو ں سے بچ سکیں، خواہشات کا راستہ روک سکیں تو پھر اس توانائی کوحاصل کرنے کے لئے اہتما م کر نا ہو گا ،ذکر میں دل لگانا ہوگاتا کہ معاشرے میں پائی جانے والی بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔

ذکر کے اثرات

میں نے آداب عرض کر دئیے ہیں کہ ذکر کی مقدار بھی مقرر ہو اور کیفیت کے ساتھ بھی کیا جائے ،اب کسی اللہ والے سے پوچھ لیں کہ میرے لئے کتناذکر منا سب ہے؟ پھر جو مقدار وہ تجویز کردیں اس کا اہتما م شروع کردیں، مقدار بھی پوری کریں اور کیفیت بھی پیدا کریں ،پھر دیکھیں کہ یہ کیا رنگ لا تا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی اہتمام بھی کرے اور پھر بھی اس کے اثرات ظاہر نہ ہوں اس لئے کہ اگر کوئی شخص کسی سے دو جملے غصے کے کہہ دے تو سامنے والے کا چہرہ تبدیل ہو جا تا ہے ، رنگ سرخ ہو جاتا ہے ، انسان کے دو جملو ں میں تواتنی تا ثیر ہو لیکن اللہ کے نا م میں تا ثیرہی نہ ہو ، ایسا نہیں ہو سکتا،یہ نا ممکن ہے۔ اللہ کے نام میں بہت تا ثیر ہے لیکن اس کے آداب کے ساتھ اسے حاصل کیا جا سکتا ہے،اس کی عظمت کے ساتھ اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اس لئے میرے عزیزو! اپنے اوقات میں سے کچھ وقت اللہ کی یاد کے لئے بھی نکالیں،ما ں بہن اور بیٹیاں بھی اس کام کے لئے فراغت کے کچھ لمحات نکالیں ۔ دن اور رات میں کچھ اوقات مقرر کر لیں جن میں اپنے اللہ کو اس انداز سے یا دکیا کریں۔ اللہ کی قسم !زندگی کا رخ ہی بدل جا ئے گا ،ترتیب ہی بدل جا ئے گی اوراسے ہم خود محسوس کریں گے۔

اللہ کا وعدہ سچاہے

اللہ کا وعدہ ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اس لئے میرے دوستو ! اگرہم اللہ کو یا د کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں یا د کریں گے، ہم اللہ کا لحاظ کریں گے تواللہ تعالیٰ ہما را لحاظ کریں گے، ہم اللہ کے دین کی حفا ظت کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہما ری حفاظت کریں گے، ہم اللہ کا خیا ل کریں گے تواللہ تعالیٰ ہما را بھی خیا ل کریں گے۔

فرشتوں کی سفارش

آپ ا کا ارشاد مبارک ہے :

’’جب بندہ فروانی میں ،خوشحالی میں ،صحت میں،فراغت میں اپنے اللہ کو یا د کر تا رہتاہے، پھر اگر وہ کسی وقت بیما ر ہو جا ئے،کسی پریشانی کا شکار ہوجائے یا کوئی مصیبت اس پر آجائے اور وہ اپنے اللہ کو پکا رے تو اللہ کے فرشتے اس کے لئے سفارش کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ! اس کی آواز بڑی ما نو س ہے پہلے بھی آتی رہی ہے، اس کی فریا دکو قبول فرما لیجئے اور جب بندہ آسائش وآرائش میں نعمتو ں کی فراوانی میں اللہ کو فرامو ش کردیتا ہے اورپھر مصیبت کی گھڑی میں جب پکا رتا ہے تو اللہ کے فرشتے کہتے ہیں اے اللہ! یہ نا ما نوس آواز ہے پہلے کبھی سنائی نہیں دی ، پھراسے دھتکا ر دیا جاتا ہے۔‘‘

کچھ وقت ضرور مقرر کریں

اللہ تعالیٰ کی ہم پر انتہائی کرم نوازی ہے ،بے حساب نوازشات ہیں کہ ہم اپنی گندی زبا نو ں سے اللہ کو یا دکرتے ہیں اور اللہ اس کی بھی لاج رکھ لیتا ہے ۔ہم اپنے سیاہ دل سے اللہ کو یا دکرتے ہیں اوراللہ اس کی بھی لاج رکھ لیتا ہے ۔ اپنی گنا ہ بھری زندگی کے اندر بھی اگر کسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں تووہ اس کی بھی لاج رکھ لیتا ہے۔ اس لئے میرے دوستو !دن رات میں کچھ اوقات ایسے ضرور مقرر کرلیں جن میں اپنے مولیٰ کو یاد کرسکیں ،کچھ وقت صبح میں اور کچھ وقت شام میں ایسا مقرر کرلیا جائے جس میں کوئی دنیاوی کام نہ کیا جائے ،صرف اللہ کا ذکر کیا جائے۔ ارشاد ربانی ہے:

( وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ) (الدھر:۲۵)

اور اپنے پروردگار کا نام صبح شام لیا کیجئے ۔

اللہ کا ذکر کر کے کچھ صبح اور کچھ شام کی توانائی حاصل کر لی جائے، صبح والی توانائی شام تک کا فی رہے گی اور شام والی صبح تک کافی رہے گی۔

ہم اس ما دی جسم کے لئے نہ جا نے کتنی غذائیں کھا تے ہیں۔ صبح کا نا شتہ، دوپہر کاکھا نا ،شام کی چا ئے ، رات کا کھا نا۔میرے دوستو! اس روحا نی زندگی کے لئے بھی کچھ غذاکی ضرورت ہے ،اسے بھی توانائی کی ضرورت ہے اگر اسے اس کی غذا پوری پوری اوروقت پر دیں گے تو اس کی وجہ سے ظاہری جسم بھی سکون پائے گا ۔

دلوں کا اطمینان

اللہ کی یا دسے دلو ں کو اطمینا ن ملا کر تا ہے ۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

( اَ لَابِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوبُ ) (الرعد:۲۸)

خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے ۔

اگر کو ئی کہے کہ ارے میرا دل تو مطمئن نہیں ہو تا میں تو بہت تسبیحات کرتا ہوں ،تو میاں آپ اُس کمیت کے ساتھ نہیں کرتے،اُس کیفیت کے ساتھ نہیں کرتے۔اللہ کی با ت توسچی ہے۔اس بات کو مان لیں کہ میں جس طریقے سے اس نسخے کو استعمال کر رہا ہوں اس میں ضرور کچھ کوتا ہی ہے ، میرے اندر کچھ بدپرہیزیا ں ہیں جس کی وجہ سے نسخہ صحیح کا م نہیں دکھا رہا ،اپنے شاندار نتا ئج نہیں دے رہا ورنہ اللہ کی بات تو سچی ہے کہ ذکر سے دلوں کو اطمینا ن ملا کر تا ہے، بے چینیا ں ختم ہوتی ہیں ۔

اب اگر کسی کو نیند نہیں آتی ،کوئی انجا نا سا خوف پریشان کئے ہو ئے ہے تو کتنا بہترین نسخہ ہے کہ تنہائیوں میں اللہ کو یاد کرنے کی عادت بنالیں اللہ آپ کوہر قسم کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات دے دے گا ،دل کو مطمئن کر دے گا۔

اس لئے میرے عزیزو !ہم سب اس بات کی کوشش کریں کہ ہمارا دن اور رات کاکچھ حصہ ایسا ہو کہ جس میں ہم تمام دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر اپنے اللہ کو یاد کریں۔

اللہ مجھے بھی اور آپ کو بھی کہنے سننے سے زیا دہ عمل کی توفیق نصیب فرما ئے ۔

آمین

وَاٰخِرُدَ عْوَانَااَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

مولانا عبد الستار صا حؓ  خطئب مسجد بیت السلام،مرکز فہم دین

Categories
Urdu Articles

shaddad ki jannat ka ajeeb qissa

شداد لعین کا قصہ:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکثر مورخین حضرات نے شداد کا ذکر بھی حضرت ہود علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ کیاہے چونکہ وہ بھی قوم عاد سے تھا اور قوم عاد ہی کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا۔ اس کے قصے کو قصص الانبیاء میں اس سبب بیان کیا گیا کہ اہلِ ایمان کو عبرت حاصل ہو اور اللہ پاک کی قدرتوں پر یقین واثق ہو۔

عاد کے دو بیٹے تھے "شدید" اور "شداد"۔ دونوں بادشاہ تھے۔ شدید تو تقریبا" سات سو برس تک بادشاہی کر کے مر گیا اور اسکے بعد شداد ملعون بادشاہ ہوا۔ جہاں تک اسکی بادشاہت تھی اسی کا حکم چلتا تھا، اسکو صرف حکومت سے غرض تھی اور وہ اسمیں ہی خوش تھا۔ اسکے ماننے والے اگرچہ کفروشرک میں مبتلا تھے لیکن اسکے عدل کی وجہ سے شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پیتے تھے۔ اسکے انصاف کا ایک قصہ ہے کہ دو شخص اسکے محکمہ عدالت میں آۓ اور اپنے عجیب احوال سناۓ۔ 

ایک شخص بولا میں نے اس سے زمین خریدی ہے اور پوری قیمت دیکر اس پر قبضہ کیا اب اس زمین میں سے خزانہ ملا ہے وہ میں اسکو دیتا ہوں اور یہ نہیں لیتا کہتا ہے کہ میں نے زمین بیچی ہے اب وہ خزانہ نہیں لے سکتا، اور میں بھی وہ خزانہ نہیں لے سکتا کیونکہ میں نے زمین خریدی ہے نہ کہ خزانہ۔ حاکم نے پوچھا کیا تم دونوں کی کوئی اولاد ہے، وہ بولے کہ ہاں! ایک کا بیٹا اور ایک کی بیٹی ہے۔ حکم کیا دونوں کی شادی کر دو اور یہ خزانہ انکو دے دو، یا اسکے دو حصے کر کے آدھا آدھا لے لو۔ ایسے انصاف سے اس نے اپنے تئیں دنیا میں نیک نام کیا۔

جب حضرت ہود علیہ السلام کو اسکی ہدایت کے لئے اور ایمان کی دعوت کے لئے بھیجا گیا تو انہوں نے بہت کوشش کی اور اسکو حق کی دعوت دیتے رہے لیکن وہ ایمان نہ لایا اور کافرومشرک مرا۔ 

حضرت ہود علیہ السلام نے جب اسکو ایمان کی دعوت دی تو وہ کہنے لگا کہ اگر میں تمہارا دین قبول کر لوں تو مجھے اسکا کیا فائدہ ہو گا؟ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کے عوض اللہ پاک تجھے بہشت عنایت کرے گا اور تجھ پر اپنا فضل و مہربانی اور رحمت فرماۓ گا، اور اسطرح کا بہت سے اچھی باتیں بتائیں جو آخرت میں اسکے واسطے نجات کا سبب بن سکتی تھیں لیکن اس ملعون پر ان بھلی باتوں کا کچھ اثر نہ ہوا اور کہنے لگا کہ تو مجھے بہشت کی بہت طمع دلاتا ہے اور صفات بیان کرتا ہے میں بھی اس دنیا میں اس جیسی ایک بہشت بناؤںگا اور دن رات عیش و عشرت کرونگا مجھے تیرے خدا کی بہشت کی کچھ حاجت نہیں۔

اس مکالمے کے بعد اس ملعون نے اسی وقت ہر اس ملک کے بادشاہوں کو خط لکھے جو اسکے تابع تھے اور خط میں لکھا کہ تمہارے ملک میں جس جگہ زمین ہموار ہو اور نشیب و فراز والی نہ ہو اسکی اطلاع ہمکو جلد کرو ہم اسمیں بہشت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اسکے بعد اپنے قاصد ہر جگہ بھیجے تاکہ ہر علاقے کا سونا، چاندی اور جواہرات لیکر آئیں یہ بھی کہا کہ جتنے بھی مشک و عنبر ہاتھ آئیں وہ بھی لیتے آئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت شداد کے زیرِ حکم بہت سے ملک اور بڑے بڑے شہر تھے بہت ہی جستجو کے بعد خطہ عرب میں ایک قطعہ زمین ملی جسکی مسافت چالیس فرسنگ تھی کئی استادوں اور انکے کاریگروں نے ملکر اسکی پیمائش کی اور سارا خزانہ وہاں لا کر جمع کیا گیا سب سے پہلے سنگ مرمر سے بنیاد بہشت کی رکھی گئی اور اسکی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنائی گئیں، چھت اور ستون زبرجد اور زمرد سبز سے بناۓ گئے۔ چنانچہ حق تعالٰی نے حضرت رسالتِ پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شداد لعین کی بہشت کے حال سے اور ستونوں سے اسکی خبر دی کہ دنیا میں کسی نے ایسی بہشت نہیں بنائی، اللہ تعالٰی فرماتا ہے " الم ترکیف فعل ربک بعادہ ارم ذات العمادہ التی لم یخلق مثلھا فی البلادہ" ترجمہ: کیا تو نے نہیں دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد سے جو ارم سے بڑے ستون بناتے تھے جو کسی شہر میں ویسا بنا نہیں۔

یعنی عاد ایک قوم تھی اور ارم اسمیں ایک قبیلہ تھا وہ اونچی عمارتیں بناتے ، اس بہشت کی صفات یہ ہیں کہ درخت اسمیں نصف سونے اور نصف چاندی سے بناۓ تھے اور وہاں نواع و اقسام کے میوے تھے بجاۓ خاک کے اسمیں مشک و عنبر زعفران سے پر کئے تھے اور بجاۓ پتھر کے اس صحن میں موتی اور مونگا ڈالتے تھے اور نہریں اسمیں شیر و شراب کی جاری تھیں اور بہشت کے دروازے پر چار میدان بنواۓ اور ان میں اشجار میوہ دار لگاۓ تھے، ہر میدان میں بہت سی کرسیاں سونے اور چاندی کی بچھی تھیں ہر کرسی کے سامنے بہت سی کھانے کی نعمتیں تھیں۔

یہاں تک کہ تین سو برس میں اس بہشت کا سر انجام ہوا۔ وکیلوں کو ہر ملک میں بھیجا کہ سکہ بھر چاندی کسی ملک میں نہ چھوڑو سب اس بہشت میں لا کر رکھ دو آخر یہ نوبت پہنچی ایک بوڑھی عورت کے ساتھ ایک یتیم بچی تھی جسکے گلوبند میں ایک سکہ چاندی تھی ، ظالموں نے اسے بھی نہ چھوڑا ، وہ بچی روتی رہی کہ میں مسکین ہوں اسکے سوا میرے پاس کچھ نہیں ، یہ مجھے بخش دو مگر انہوں نے کچھ نہ سنا ، تب اس نے بارگاہِ الٰہی میں فریاد کی اور اس ظالم کے شر سے پناہ مانگی اور کہا کہ اے مالک ! اسکا انصاف کر اور اسکے پروردگار نے دعا قبول فرمائی ، مصداق اس حدیث کے" قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم تقوا دعوۃ المظلوم فانھا مقبول" ترجمہ: پرہیز کرو مظلوم کی بد دعا سے بیشک وہ مقبول ہوتی ہے۔

شداد نے ملک کے سارے خوبصورت اور حسین لڑکے لڑکیاں جمع کیں تاکہ وہ مانند حورو غلمان بہشت میں اسکی خدمت میں رہیں، کئی سالوں تک وہ کافر ارادہ کرتا رہا کہ جا کر بہشت دیکھے لیکن اللہ پاک کو منظور نہ تھا کہ وہ اپنی بنائی ہوئی بہشت میں جاۓ۔

ایک روز کمال خواہش سے دو سو غلام ساتھ لیکر بہشت دیکھنے گیا جب وہ بہشت کے نزدیک پہنچا تو اس نے اپنے غلاموں کو چاروں میدانوں مین بھیجا اور ایک غلام کیساتھ بہشت میں داخل ہونے لگا تھا کہ بہشت کے دروازے پر ایک شخص کو کھڑا ہوا دیکھا اس سے پوچھا تُو کون ہے؟ اس نے کہا میں ملک الموت ہوں۔ شداد نے پوچھا تو یہاں کیا کیوں آیا ہے؟ ملک الموت نے جواب دیا کہ میں تیری جان قبض کرنے آیا ہوں۔ شداد بولا مجھے ذرا مہلت دے دو تا کہ میں اپنی بنوائی ہوئی بہشت کو دیکھ لوں۔ ملک الموت نے کہا کہ خدا کا حکم نہیں ہے کہ تو اسے دیکھے کیونکہ تو دوزخ کا حقدار ہے اور وہیں جاۓ گا تب اسی حالت میں کہ اسکا ایک پاؤں گھوڑے کی رقاب پر تھا اور دوسرا بہشت کے دروازے پر اور اسکی جان قبض کر لی گئی اور وہ مردود بہشت نادیدہ دوزخی ہوا ۔

ایک فرشتے نے آسمان سے ایسی سخت آواز کی کہ اسکے سب ساتھی ہلاک ہو گئے اور وہ سب دوزخی ہو گئے ، اسکی بہشت کو زمین کے نیچے دبا دیا کہ قیامت تک اسکا کچھ اثر باقی نہ رہے ، بعد میں اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔

بحوالہ قصص الانبیاء

Categories
Urdu Articles

piar-o-Muhabbat ka khail

"پیار و محبت کو کھیل سمجھنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کیلئے ایک سبق آموز تحریر !"


ایک بار ضرور پڑھئیے پلیز ! شائد آپ کو کچھہ سیکھنے کو مل جائے !


——————————————————————————–





ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفرت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ 





کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟؟


وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔!!! لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘





محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ 





میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔ غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔





اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔





(اقتباس: گل نوخیز اختر کا کالم "محبت کیا ہے؟")

Categories
Urdu Articles

jang -e- jamal aur siffeen ka ajeeb waqia

حضرت حسن رضی الله کا بیان چل رہا تھا. بقیہ حصہ ……..

نوٹ جنگ جمل اور جنگ صفیں دونوں کو یہی بیان کر دیا گیا ہے ویسے تو یہ جنگ حضرت علی رضی الله کی خلافت میں ہووی لیکن حضرت علی رضی الله کے خلافت کو بیان کرتے ہووے میں نے اس مضمون کو نہیں چھڑا کیونکے اس وقت میں نے مناسب نہیں سمجھا یہاں مناسب اس وجہ سے سمجھا تا کہ اگے حضرت حسن رضی اور حضرت معاویہ رضی کو خلافت سونپ دیتے ہیں .حضرت علی رضی الله اور حضرت امیر شام معاویہ رضی الله کے آپس میں بہت اختلاف رہے تھے بہت کیا تمام خلافت اختلاف میں گزری باغی لوگوں کی وجہ سے :



پچھلے مضمون میں جنگ جمل کی ہڈنگ نہیں دی حضرت عثمان غنی رضی الله کی شہادت کے بعد جنگ جمل کا واقعہ ہے اور جنگ جمل کے بعد حضرت علی رضی الله اور حضرت معاویہ رضی الله کے درمیاں جنگ ہووی جسکو جنگ صفیں کہا جاتا ہے جنگ صفیں کس وجہ سے ہووی اسکی وجہ بھی حضرت عثمان غنی رضی الله کا قصاص لینا تھا یہاں ایک بات کی مختصر وضاحت کر دوں کے جنگ جمل اور جنگ صفیں میں صحابہ کرام رضی الله کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں تھا کیونکے اگر ذرا غور کرو تو 

فاروق اعظم رضی الله کے بعد حضرت عثمان کے عہد خلافت میں فتنہ و فساد شروع ہوا تو حضرت علی رضی نے ان کو رفع کرنے کے لئے ان کو نہایت مخلصانہ مشورے دیے ،ایک دفعہ حضرت عثمان رضی الله نے ان سے پوچھا کہ ملک میں موجودہ شورش وہنگامہ کی حقیقی وجہ اوراس کے رفع کرنے کی صورت کیاہے؟ انہوں نے نہایت خلوص اورآزادی سے ظاہر کردیا کہ موجودہ بے چینی تمام تر آپ کے عمال کے بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہے،حضرت عثمان رضی الله نے فرمایا کہ میں نے عمال کے انتخاب میں انہی صفات کو ملحوظ رکھا ہے جو فاروق اعظم کے پیش نظر تھے، پھر ان سے عام بیزاری کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی؟ جناب علی مرتضی رضی الله نے فرمایا ہاں! یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر نے سب کی نکیل اپنےہاتھ میں لے رکھی تھی اور گرفت ایسی سخت تھی کہ عرب کا سرکش سے سرکش اونٹ بھی بلبلااٹھا برخلاف اس کے آپ ضرورت سے زیادہ نرم دل ہیں، آپ کے عمال اس نرمی سے فائدہ اٹھا کر من مانی کارووائیاں کرتے ہیں اورآپ کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی، رعایا سمجھتی ہے کہ عمال جو کچھ کرتے ہیں وہ سب دربارِ خلافت کے احکام کی تعمیل ہے، اس طرح تمام بے اعتدالیوں کا ہدف آپ کو بننا پڑا۔حضرت علی رضی الله کے گمان مین بھی نہیں تھا کے نوبت یہاں تک آجائیگی لیکن پھر بھی حضرت علی رضی الله حضرت عثمان غنی کے ساتھ تھے اور بطور احتیاط اپنے پیارے بیٹوں کو کو سیکورٹی دینے کے لئے بھجا اور حسن رضی الله نے بہت طاقت سے باغیوں کا مقابلہ کیا لیکن باغی پہلے سے پلاننگ پر تھے حسن رضی بہت شدید زخمی ہووے حضرت علی رضی الله نے ہر گز عثمان رضی الله کے خلاف نہیں تھے اگر حضرت علی رضی الله حضرت عثمان غنی کے خلاف ہوتے تو حضرت حسن رضی الله کو ہر گز نہیں بہجتے اور پھر جنگ جمل میں حضرت علی رضی الله اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امت کی ماں یہ آپس میں لڑنے کے لئے ہر گز نہیں نکلے تھے اسکی جنگ کی وجہ یہی تھی کے عثمان غنی رضی الله کے قاتلوں کو مارا جائے اور حضرت عثمان غنی رضی الله کے قاتل وہ باغی لوگ تھے جنہوں نے حضرت علی رضی الله کو گھیر ہ ہوا تھا پچھلے مضمون میں حضرت حسن رضی الله کا حضرت علی رضی الله کو مشورہ دینا آپ لوگوں نے پھڑا ہوگا حضرت علی رضی الله کو باغیوں نے گھیر رہکا تھا جب کہ حسن رضی نے اپنے والد سے کہا تھا کے اپ چلے جائیں اور وہی باغی لوگوں نے حضرت علی رضی کو پھسا کر رہکا طرح طرح سے ذہنی طور پر حضرت علی رضی کو پریشان کیے جارہے تھے. تو جنگ جمل بھی انہی باغیوں کو مارنے کے لئے ہووی تھی جنہوں نے حضرت علی رضی کو گھیر رہکا تھا اور جنگ صفیں کی وجہ بھی یہی لیکن جنگ صفیں میں ایک طرف حضرت معاویہ رضی الله اور دوسرے طرف حضرت علی رضی الله تھے یہ جنگ ان دونوں اکابر صحابہ کی نہیں تھی بلک یہ جنگ بھی انہی باغیوں کو مارنے کے لئے ہووی 

باغی وہ لوگ تھے جو اپنی پلاننگ میں کامیاب ہووے عثمان غنی رضی الله کو شہید کیا اور حضرت علی رضی کو بلیک میل کرتے رہے ویسے تو جنگ جمل اور جنگ صفیں کے حالات پر بہت وقت لگ سکتا ہے لیکن ہم نے ان دونوں جنگ کا موقف بیان کر دیا ہے صحابہ کرام رضی الله کے آپس میں کوئی اختلاف نہ تھے اور نہ ہی تو صحابہ ایک دوسرے دشمن تھے ..



یہاں مزید ایک بات کی وضاحت کرنا چاہونگا کے حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت میں سب سے بہترین خلافت کا دور عہد صدیقی اور عہد فاروقی رضی الله کا دور تھا …



اب 

اگے کی طرف چلتے حضرت حسن رضی الله کی بیعت لی اوربیعت کے بعد حسب ذیل تقریر ارشاد فرمائی:

لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص بچھڑا ہے کہ نہ اگلے اس سے بڑھ سکے اورنہ پچھلے اس کو پاسکیں گے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اپنا علم مرحمت فرما کر لڑائیوں میں بھیجتے تھے وہ کبھی کسی جنگ سے ناکام نہیں لوٹا۔

میکائیل اورجبرائیل علیہ السلام چپ وراست اس کے جلو میں ہوتے تھے اس نے ساتھ سودرہم کے سوا جو اس کی مقررہ تنخواہ سے بچ رہے تھے،سونے چاندی کا کوئی ذرہ نہیں چھوڑا ہے یہ درہم بھی ایک خادم خریدنے کے لئے جمع کئے تھے،

اس بیعت اورتقریر کے بعدا ٓپ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔

(ابن سعد،جز۳،ق اول، ذکر علی،حاکم نے مستدرک میں بھی اس کو خفیف تغیر کے ساتھ نقل کیا ہے)



امیر معاویہ کا جارحانہ اقدام

امیر شام معاویہ رضی الله کو یہ معلوم تھا کہ حسن رضی الله صلح پسند ہیں اور جنگ و جدال وہ دل سے ناپسند کرتے ہیں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ حضرت حسن رضی الله کو قتل وخونریزی سے شدید نفرت تھی اوراس قیمت پر وہ خلافت لینے پر آمادہ نہ تھے؛چنانچہ آپ نے پہلے ہی یہ طے کرلیا تھا کہ اگر اس کی نوبت آئی تو امیر معاویہ رضی الله سے اپنے لئے کچھ مقرر کراکے خلافت سے دست بردار ہوجائیں گے۔

(طبری:۷/۱)

امیر معاویہ رضی الله کو ان حالات کا پورا اندازہ تھا اس لئے حضرت علی رضی الله کی شہادت کے بعد ہی انہوں نے فوجی پیش قدمی شروع کردی اورپہلے عبداللہ بن عامر کریز کو مقدمہ الجیش کے طور پر آگے روانہ کردیا،یہ انبار ہوتے ہوئے مدائن کی طرف بڑھے۔

حضرت علی رضی کی شہادت ہوچکی تھی اب حضرت معاویہ رضی الله اور حسن رضی الله کا دور ہے 



مقابلے کے لئے آمادگی اور پھر واپسی 

حضرت حسن رضی الله اس وقت کوفہ میں تھے آپ کو عبداللہ بن عامر کی پیش قدمی کی خبر ہوئی تو آپ بھی مقابلہ کے لئے کوفہ سے مدائن کی طرف بڑھے، ساباط پہنچ کر اپنی فوج میں کمزوری اورجنگ سے پہلو تہی کے آثار دیکھے اس لئے اسی مقام پر رک کر حسبِ ذیل تقریر کی:

"میں کسی مسلمان کے لئے اپنے دل میں کینہ نہیں رکھتا اور تمہارے لئے بھی وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں،تمہارے سامنے ایک رائے پیش کرتا ہوں، امید ہے کہ اسے مسترد نہ کروگے جس اتحاد ویکجہتی کو تم ناپسند کرتے ہو وہ اس تفرقہ اوراختلاف سے کہیں افضل و بہتر ہے،جسے تم چاہتے ہو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر اشخاص جنگ سے پہلو تہی کررہے ہیں اور لڑنے سے بزدلی دکھا رہے ہیں میں تم لوگوں کو تمہاری مرضی کے خلاف مجبور کرنا نہیں چاہتا"

یہ خیالات سن کر لوگ سناٹے میں آگئے اورایک دوسرے کا منہ تکنے لگے،اگرچہ کچھ لوگ جنگ سے پہلو تہی کررہے تھے تاہم بہت سے خارجی عقائد کے لوگ جو آپ کے ساتھ تھے وہ معاویہ رضی الله مقابلہ کے لئے آمادگی اور واپسی سے لڑنا فرض عین سمجھتے تھے،انہوں نے جب یہ رنگ دیکھا تو حضرت علی رضی الله کی طرح حضرت حسن رضی الله کو بھی برا بھلا کہنے لگے اوران کی تحقیرکرنی شروع کردی اورجس مصلیٰ پر آپ تشریف فرماتے تھے حملہ کرکے اسے چھین لیا اورپیراہن مبارک کھسوٹ کر گلے سے چادر کھینچ لی حضرت حسن رضی الله نے یہ برہمی دیکھی تو گھوڑے پر سوار ہوگئے اور ربیعہ و ہمدان کو آوازدی انہوں نے بڑھ کر خارجیوں کے نرغہ سے چھڑایا اورآپ سیدھے مدائن روانہ ہوگئے راستہ میں جراح بن قبیصہ خارجی حملہ کی تاک میں چھپا ہوا تھا، حضرت حسن رضی الله جیسے ہی اس کے قریب سے ہوکر گزرے اس نے حملہ کرکے زانوئے مبارک زخمی کردیا، عبداللہ بن خطل اورعبداللہ بن ظبیان نے جو امام کے ساتھ تھے جراح کو پکڑکر اس کا کام تمام کردیا اورحضرت حسن رضی الله مدائن جاکر قصر ابیض میں قیام پذیر ہوگئے اورزخم بھرنے تک ٹھہرے رہے،شفایاب ہونے کےبعد پھر عبداللہ بن عامرکے مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے 



اس دوران میں امیر معاویہ رضی الله بھی انبار پہنچ چکے تھے اور قیس بن عامر کو جو حضرت حسن رضی الله کی طرف سے یہاں متعین تھے گھیرلیا تھا ادھر معاویہ رضی الله نے قیس کا محاصرہ کیا دوسری طرف حضرت حسن رضی الله اورعبداللہ ابن عامر بالمقابل آگئے،عبداللہ اس موقع پر یہ چال چلا کہ حضرت حسن رضی الله کی فوج کو مخاطب کرکے کہا کہ عراقیو! میں خود جنگ نہیں کرنا چاہتا،میری حیثیت صرف معاویہ رضی الله کے مقدمۃ الجیش کی ہے اور وہ شامی فوجیں لے کر خود انبار تک پہنچ چکے ہیں، اس لئے حسن رضی الله کو میرا سلام کہہ دو اورمیری جانب سے یہ پیام پہنچا دو کہ ان کو اپنی ذات اوراپنی جماعت کی قسم جنگ ملتوی کردیں عبداللہ بن عامر کا یہ افسوں کار گر ہوگیا،حضرت حسن رضی الله کے ہمراہیوں نے اس کا پیام سنا تو انہوں نے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھا اور پیچھے ہٹنے لگے، حضرت حسن رضی الله نے اسے محسوس کیا،تو وہ پھر مدائن لوٹ گئے۔ 



حضرت حسن رضی الله اورامیر معاویہ رضی الله ی صلح 

حضرت حسن رضی الله اورامیر معاویہ رضی الله کی مصالحت کے بعد عمرو بن العاص رضی الله نے جو امیر معاویہ رضی الله کے ہمراہ تھے ان سے کہا کہ مناسب یہ ہے کہ مجمع عام میں حسن رضی الله سے دستبرداری کا اعلان کرادو، تاکہ لوگ خود ان کی زبان سے اس کو سن لیں،مگر امیر معاویہ رضی الله مزید حجت مناسب نہ سمجھتے تھے،اس لئے پہلے اس پر آمادہ نہ ہوئے مگر جب عمرو بن العاص رضی الله نے بہت زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے حضرت حسن رضی الله سے درخواست کی کہ وہ برسر عام دستبرداری کا اعلان کردیں،امیر معاویہ رضی الله کی اس فرمایش پر حضرت حسن رضی الله نے مجمع عام میں حسب ذیل تقریر فرمائی:

اما بعد لوگو خدا نے ہمارے اگلوں سے تمہاری ہدایت اورپچھلوں سے تمہاری خونریزی کرائی دانائیوں میں بہتر دانائی تقویٰ اورکمزوریوں میں سب سے بڑی کمزوری بداعمالیاں ہیں ،یہ امر (خلافت) جو ہمارے اور معاویہ رضی الله کے درمیان متنازعہ فیہ ہے یا وہ اس کے حقدار ہیں یا میں دونوں صورتوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح اور تم لوگوں کی خونریزی سے بچنے کے لئے میں اس سے دستبردار ہوتا ہو

(اسدالغابہ:۲/۱۴،واستیعاب:۱/۱۴۴)



اس خاتم الفتن دست برداری کے بعد حضرت حسن رضی الله اپنے اہل وعیال کو لے کر مدینۃ الرسول چلے گئے،اس طرح آنحضرت کی یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی کہ میرا یہ بیٹا سید ہے خدا اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے جماعتوں میں صلح کرائے گا۔



الله سے دعا کرتا ہوں یا الله مجھے سے کوئی خطا ہووی ہو تو مجھے معاف کر دینا آمین .



اپنا عقیدہ بتا دوں جو میں یہاں وضاحت کر چکا ہوں 



ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امت کی ماں ہے اس طرح سے حضرت علی رضی الله بھی حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تھے اور جب حضرت علی رضی الله حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہووے تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہووے کیونکے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت محمّد کی زوجہ مبارک تھی ..اور امت کی ماں ..



حضرت علی رضی الله اور حضرت ممعاویہ رضی الله بھائی بھائی تھے کیونکے انکا ذاتی کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن حضرت علی رضی الله کا درجہ حضرت معاویہ رضی سے بالا تر ہے .

اور حضرت حسن رضی الله جنکے بارے میں حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کی حدیث تھی تو اسی وجہ سے ہم کسی کو بھی غلط نہیں کہتے بلکہ یہاں حضرت حسن رضی الله جو شاندار کارنامہ سر انجام دیا یہ تاریخ میں ہمیشہ چمکتا رہیگا ….

 

Categories
Urdu Articles

Maulana Lal Husain Akhtar (rah)

 
انکا نام لال حسین تھا ، کالج میں پڑھتے تھے لیکن دل میں جذبہ تھا کہ اسلام کے لیے کچھ کروں اس کے لیے کسی پلیٹ فارم کی تلاش میں تھے ۔ اسی تلاش میں چند قادیانی مبلغ ان سے ملے ۔ یہ قادیانی فتنے کے آغاز کا ہی زمانہ تھا بہت سارے لوگ قادیانیوں کی حقیقت سے ناواقف تھے ۔ ان مبلغین نے انہیں اپنی جماعت کی اسلام کے لیے کی گئی خدمات گنوائی اور مرزا غلام قادیانی کے شروع کے زمانہ کی وہ تحاریر دکھائی جو اس نے اسلام کی تعریف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں لکھی تھی اور انہیں دعوت دی کہ آپ ہمارے ساتھ کام کریں ۔ وہ ان تحاریر سے بہت متاثر ہوئے اور انکے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ مرزا قادیانی کی بیعت کی اور تربیت کے لیے انکی جماعت کے مدرسہ میں داخل ہوگئے وہاں پر مناظرے کی تعلیم حاصل کی اور آٹھ سال انکے حق میں جگہ جگہ مناظرے کرتے رہے۔ اور شاباش حاصل کرتے رہے
لیکن کچھ عرصہ بعد انہیں کچھ عجیب عجیب خواب آنے شروع ہوگئے جس میں انہیں مرزا قادیانی بہت بری شکل میں دکھایا گیا ۔ یہ دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوئے لیکن کسی سے ان خوابوں کا ذکر نہیں کیا ، ایک دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ایک رسی ہے جس کا دوسرا سرا انکے ہاتھ میں ہے اور وہ مرزا کے پیچھے پیچھے جا رہے ہیں ۔ مرزا ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہوگیا اور انہوں نے دیکھا کہ ایک بڑی آگ جل رہی اور مرزا اس آگ میں جا رہا ہے وہ بھی اس کے ساتھ ہی گرنے لگے لیکن ایک نورانی شکل والے بزرگ نے آکر رسی کاٹ دی اور وہ بچ گئے ۔
یہ خواب دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے قادیانی فتنہ پر تحقیق شروع کردی تو ان پر حقیقت کھلی کہ یہ تو ایک جھوٹا مذہب ہے اور خرافات پر مبنی ہے ۔ انہوں نے توبہ کی دوبارہ کلمہ پڑھا۔ اور ایک دن انہیں وہ نورانی شکل والے بزرگ بھی مل گئے انکا نام مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ تھا ۔ انہوں نے لال حسین کو اس فتنہ سے بچنے پر مبارکباد دی اور قادیانیوں کے خلاف کام کرنے کا کہا
پھر دنیا نے دیکھا کہ انہوں نے فتنہ قادیانیت کے خلاف وہ کام کیا کہ ہر طرف انکے نام کا ڈنکا بجنے لگ گیا ۔ وہ چونکہ قادیانیوں کے ہی تربیت یافتہ تھے اس لیے انکے بخیئے اڈھیر دیے ۔ قادیانی انکے نام سے خوف کھانے لگے قادیانیوں نے انکی تربیت کے لیے اس زمانہ میں پچاس ہزار خرچ کیے لیکن اللہ نے ان سے اس فتنے کے زور کو توڑنے کے لیے بہت کام لیا ۔
انکو آج لوگ مولانا لال حسین اختر رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتے ہیں
اللہ ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل کرے
ختم نبوت زندہ باد