بچوں کی تربیت کے حوالے سے کرنے کے کاموں میں آج بس یہ چھوٹی سی لسٹ!

گلے لگانا:
کہیں ایک ریسرچ میں پڑھا تھا کہ انسان کو دن میں کم از کم آٹھ بار hug کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی تو چلیں چھوڑیے لیکن اپنے بچوں کی اس ضرورت کا خیال کریں۔ میرے جیسی ماں کو ہر پونے گھنٹے کا الارم لگانا پڑتا ہے تاکہ کام میں لگ کر بھول نہ جاؤں۔ لمس سے ایک محبت، ایک گرماہٹ کا احساس دل میں جاگتا ہے، تحفظ کا احساس ہوتا ہے، بچے میں self esteem بڑھتی ہے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق hug اتنا لمبا ضرور ہو کہ آپ آرام سے دس تک گنتی گن سکیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ دو زانو ہو کر بچے کے لیول پر آ کر اس کو گلے لگائیں تا کہ وہ بھی آپ کے گلے میں بازو ڈال کر آپ کو hug back کر سکے۔

آئی کانٹیکٹ:
آئی کانٹیکٹ کسی بھی رشتے میں‌ ازحد ضروری ہے اور سکرین کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمیں خود تو برا لگتا ہے کہ شوہر ٹی وی کی طرف دیکھتے دیکھتے ہی جواب دیتے ہیں، ہم نظرانداز ہو رہے ہیں، لیکن وہی ہم ہانڈی میں چمچہ ہلاتے ہوئے بچوں سے بات کر رہے ہوتے ہیں، دور سے ہی سوال جواب چل رہے ہوتے ہیں۔ سارا دن تو ممکن نہیں لیکن اصول بنا لیں کہ رات کے کھانے پر ہر طرح کی سکرین آف ہو، یا سونے سے پہلے کچھ دیر آئی کانٹیکٹ کر کے دن بھر کی روداد شیئر کی جائے اور پھر بچوں سے بھی پوچھا جائے کہ کیسا دن گزرا۔

بوسہ لینا:
چھوٹے بچوں کو تو ہم بار بار گود میں اٹھاتے ہیں، بار بار پیار کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے، ایک فاصلہ غیر محسوس طریقے سے حائل ہوتا جاتا ہے۔ اب کئی کئی دن اس کو بوسہ نہیں دیا جاتا۔ بظاہر نہ آپ کو کوئی تشنگی محسوس ہوتی ہے اور نہ انہیں لیکن کہیں نہ کہیں ایک کمی سی رہ جاتی ہے۔ یہ کمی نہ رہنے دیں! بچے کو جب گلے لگائیں تو ماتھے پر پیار سے بوسہ دے دیں۔ اسے اچھا لگے گا۔ آپ کو بھی اچھا لگے گا!

محبت کسی بھی رشتے میں ہو، اظہار اور تجدیدِ اظہار مانگتی ہے۔ کتنی ہی بار ہم یہ شکوہ اپنے شوہر سے کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں۔ اب آپ ویسے پیار نہیں کرتے جیسے شادی کے شروع میں کرتے تھے۔ زبان سے نہ کہیں تو بھی دل میں محسوس کرتے ہیں۔ لیکن بعینہ وہی سب بچوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے بچے کو چوم چوم کر اس کو تنگ کر دیتے ہیں، اور بڑے بچوں کے لیے ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ محبت ان کی بھی ضرورت ہے۔ اظہار کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہیں بتاتے اپنی اولاد کو کہ وہ ہماری زندگی کا محور ہے؟ ہماری خوشی اس کی مسکراہٹ سے مشروط ہے۔ اس کے چہرے پر ذرا سی پریشانی ہماری جان نکال دیتی ہے۔ وہ ہمیں ہر ایک سے زیادہ عزیز ہے۔ جب hug کریں تو دس تک گنتی گننے کے بجائے اس وقت انہیں ایک آدھا جملہ پیار سے بول دیں۔ پھر آئی کانٹیکٹ کر کے ماتھے پر بوسہ دیں اور پندرہ سیکنڈ میں آپ کے تینوں ’کام‘ ہو جائیں گے۔ 🙂

جو لوگ اپنے بچوں کو جھپی نہیں ڈالتے، بوسہ دینے کی عادت نہیں، وہ ایک سے شروع کریں۔ جھجک آئے تو بھی کوشش کریں اور آہستہ آہستہ ڈوز بڑھاتے جائیں۔ آپ کو فرق خود ہی محسوس ہو گا۔ محبت کا یہ اظہار روزانہ کی بنیاد پر اس لیے بھی اتنا اہم ہے کہ محبت ہم سبھی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب گھر سے نہیں ملتی تو کہیں اور ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری اولاد کو گھر سے ہی اتنا پیار اور اعتماد ملے، انہیں محبت کے لیے کسی اور کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ گھر سے باہر کی دنیا کا کوئی شخص انہیں محبت دے گا تو واپسی میں کیا ڈیمانڈ کرے گا۔ محتاط رہیں۔ وقت کی نزاکت کا خیال رکھیں۔

بچوں کی تربیت، 3 کام جو نہیں کرنے

بچوں کی تربیت کے حوالے سے 3 کام جن سے ہر صورت اجتناب ضروری ہے.

1- جھوٹ بولنا۔
بچوں کے ساتھ جھوٹ‌ بولنا ہمارے ہاں اتنا عام ہے کہ اس کو جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ اس کی اگر ساری مثالیں لکھنے بیٹھوں تو آرٹیکل اسی میں ختم ہو جائے گا لیکن بات سمجھانے کے لیے کچھ کا تذکرہ ضروری ہے۔

– بچوں کو سلانے کے لیے اصولاً ہمیں چاہیے کہ اس کے ساتھ بیٹھ/لیٹ کر اس پر معوذتین اور آیۃ الکرسی پڑھیں اور اس کو بتائیں کہ اب آپ آرام سے سو جائیں، فرشتے ساری رات آپ کی حفاظت کریں گے، لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ ڈرانے دھمکانے والے کام شروع ہو جاتے ہیں کہ مائی جھلی آ جائے گی، بِلّا آ جائے گا۔ ایک تو جھوٹ بولا، پھر بچے کو ڈرا کے سلایا، تیسرا اس کے دل میں ایک بےنام سا خوف ڈال دیا کہ اب جب وہ کسی بہت بوڑھی عورت کو یا بلی کو دیکھتا ہے تو پریشان ہو کر چھپنے لگ جاتا ہے۔

– بازار جانا ہو یا کسی بھی ایسی جگہ کہ بچہ ساتھ نہیں جا رہا، اس کو یہ کہہ کر جانا کہ ’’ٹیکا‘‘ لگوانے جا رہے ہیں، یا ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں۔ جھوٹ کے ساتھ دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ ڈاکٹر کا سخت خوف بچے کے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔

– اپنے پاس بلانے کے لیے مٹھی بند کر کے چھوٹے بچوں کو کہنا کہ یہ دیکھو میرے پاس ٹافی ہے۔ یا یہ کہ میرے پاس آؤ، پھر میں آپ کو فلاں چیز دلواؤں گا، جو کبھی دلوائی نہیں جاتی۔

– چھوٹے بچے جب کھانے سے انکاری ہوں، انک و ان کی پسند کی چیز مثلاً چپس وغیرہ دکھا کر منہ کھلوانا لیکن چپس کے بجائے کھانا منہ میں ڈالنا۔ یعنی کچھ اور دکھا کر دھوکے سے کچھ اور کھلانا۔ پاکستان میں ہم کسی کے ہاں مہمان گئے۔ کوک دیکھ کر تین سالہ احمد نے بھی فرمائش کی۔ گلاس میں تھوڑی سی کوک اور باقی پانی ملا کر جب میں احمد کو پکڑانے لگی تو میزبان حیران لہجے میں پوچھنے لگیں کہ آپ نے اس کے سامنے پانی ملا دیا؟ ہم تو چھپ کر ملا کر دیتے ہیں۔

– بچوں کے ہاتھ سے چیز چھین کر جلدی سے کہیں چھپا دینا اور کہنا کہ چڑیا لے گئی۔ بچہ اگر آپ کے سمجھانے کے باوجود چیز نہیں واپس کر رہا اور آپ کو زبردستی اس کے ہاتھ سے لینی بھی پڑے تو بتا دیں کہ بیٹا، یہ ٹوٹ جائے گی/آپ کو چوٹ لگ جائے گی، اس لیے ماما آپ کو یہ نہیں دے سکتیں۔ بات ختم! جھوٹ کی ضرورت ہی کیا ہے؟!

– جھوٹ بولنے سے بچے کو روکنے کے لیے ہم خود جھوٹ بول دیتے ہیں کہ زبان کالی ہو جائے گی۔ ہم چھوٹے سے بچے کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ سچ بولنا اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔ آپ سچ بول دیں، میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گی۔ جھوٹ بولنے کے پیچھے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ڈانٹ‌ پڑ جائے گی۔ تو پکا اصول بنا لیں کہ سچ بولنے پر بچے کو ڈانٹنا نہیں ہے۔ نرمی سے سمجھا ضرور دیں اور ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ آپ نے سچ بولا ہے اس لیے میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گی/گا۔
اس کے علاوہ جھوٹی سزائیں اور جھوٹے انعامات! رونا بند کر دو تو پورا ڈبہ چاکلیٹ کا دلواؤں گی، یا آپ کو وہ کار یا گڑیا دلواؤں گی جو اس دن مارکیٹ میں دیکھی تھی۔ اور سزائیں ایسی جو ممکن ہی نہ ہوں جیسے آئندہ آپ کو کبھی ساتھ نہیں لے کر جائیں گے، سارا دن کمرے میں بند رکھوں گی۔ آپ خود اپنے آپ کو دیکھیے کہ جس سزا یا انعام کا وعدہ آپ بچے سے کرتے ہیں، کیا وہ پورا بھی کیا جاتا ہے یا ’’جوشِ خطابت‘‘ میں منہ سے نکل جاتا ہے؟

2- غلط ناموں سے پکارنا۔
چھوٹے بچوں کو لاڈ سے ’’گندہ بچہ‘‘ کہنا ہمارے یہاں بہت عام ہے۔ ہم بچوں کو لاڈ سے کیوں نہ ’’میرا پیارا بیٹا، میرا اچھا بیٹا‘‘ کہہ لیں۔ اس سے بھی بڑھ کر بچوں کے لیے شیطان کا لفظ استعمال کرنا۔ شیطان تو مردود ہے، اللہ کی رحمت سے دور، تو یہ نہ کہیں کہ بچہ شیطانیاں کر رہا ہے، بہت شیطان ہے۔ اس کے بجائے شرارتی کہہ لیجیے۔

جب بچے ذرا بڑے ہو جاتے ہیں تب بھی نام رکھنے کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اور بچوں کی موجودگی میں ہی ہر ایک کے سامنے ان ناموں اور خوبیوں، خامیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ والدین کی رائے، اچھی ہو یا بری، بچے جب بار بار سنتے ہیں تو کہیں نہ کہیں اسی رائے کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔ ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ جو بات ہم اپنے ذہن میں ڈال لیتے ہیں، ہم اسی کے مطابق عمل کر رہے ہوتے ہیں۔ ’بالکل احمق ہو، کبھی کوئی کام صحیح کر ہی نہیں سکتے‘، ’بہن کو دیکھو کتنی تیز ہے‘، ’تم اتنے سست ہو کہ کام کہنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں‘۔ اردو پڑھنا میرے بیٹے کو بالکل نہیں پسند، بیٹی ہماری بالکل ’مائی منڈا‘ ہے، چھوٹا بیٹا کسی سے ملنا بات کرنا پسند نہیں کرتا‘، یہ سب باتیں جب بچوں کے سامنے دہرائی جاتی رہتی ہیں، تو پہلے ان کی طبیعت میں جو صرف ایک رجحان تھا، اب ایک پکی عادت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ بچے کی خوبیوں کو ہی ہائی لائیٹ کریں۔

3 – موازنہ کرنا
ہر بچہ منفرد ہے۔ اس کا اپنا مزاج، اپنے رجحانات، اپنی پسند ناپسند، کام سیکھنے/کرنے کی اپنی رفتار ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک بچہ سوشل جبکہ دوسرا خاموش طبع ہو، ایک صفائی پسند اور آرگنائزڈ جبکہ دوسرا من موجی سا ہو، ایک کو میتھ پسند ہو اور دوسرے کی جان جاتی ہو، ایک ڈرائنگ کا شوقین ہو جبکہ دوسرے کو سیدھی لائن لگانا بھی مشکل لگے۔ ایسے میں ہر بچے کو اس کی منفرد صلاحیتوں کے ساتھ قبول کریں۔ بار بار موازنہ کر کے بہن بھائی کے درمیان مقابلے اور حسد کی فضا نہ بنائیں۔

بچوں کی تربیت، ایک آخری بات

ہر گھر کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بھی اگر کچھ اصول بنا لیے جائیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے؛ ہماری ہی نہیں، ان کی بھی! اصول تھوڑے ہوں، اور جو ہوں ان کی پابندی کی جائے۔ احمد کے لیے جو اصول ہمارے گھر میں ہیں، ان میں سے چند مختصراً بتاتی ہوں۔ میں چاہوں گی کہ آپ کا اگر کوئی خاص اصول ہے تو شیئر کریں۔ ہم سبھی ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔

1. صدقہ دینا
جب بھی احمد کو کچھ پیسے ملیں، اصول یہی ہے کہ پہلے صدقہ الگ کرنا ہے۔ اب الحمدللہ وہ چھوٹو سا آ کر جب مجھے کہتا ہے کہ ماما! یہ صدقہ رکھ لیں، کسی غریب بندے کے لیے، بہت اچھا لگتا ہے۔ ہم کبھی باہر کسی غریب کو کھانا پکڑا دیتے ہیں، گھر میں کام کرنے والی ماسی کی کوئی مدد کر دیتے ہیں، حتی کہ باہر پرندوں کو بچی ہوئی روٹی ڈالتے ہیں، لیکن بچوں کو شامل نہیں کرتے۔ کرنا چاہیے! انہیں پتہ ہو کہ ہر بندے کے پاس وہ تمام سہولتیں نہیں جو ہمارے پاس ہیں اور جن کی قدر ہمیں نہیں۔ اور پیسہ جتنا بھی ہمیں عزیز ہو، اس کے ایک حصے پر اوروں کا حق ہے۔

2. کھانا
احمد کو کھانا کھلانا شروع سے ہی ایک مشکل کام رہا۔ یہی وہ وقت ہے جس وقت صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور بار بار چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کوئی لیکچر سنا کہ اگر کھانا حلال اور صحت بخش ہے تو بس یہ کافی ہے، کھانے کے وقت کو جنگ نہ بنائیں۔ اس دن کے بعد سے اگر احمد وہ کھانا نہیں کھانا چاہتے جو گھر میں بنا ہے تو جو وہ چاہیں، حلال اور صحت بخش، ان کو مل سکتا ہے بشرطیکہ وہ پہلے اتنے نوالے گھر بنے کھانے کے لیں جتنی ان کی عمر ہے۔ جب 4 سال کے تھے تو چار لقموں کے بعد انہیں بریڈ انڈہ/دودھ سیریل/نان پنیر، جو وہ چاہیں مل سکتا تھا۔ اب پانچ سال کے ہیں تو پہلے پانچ لقمے لینا پڑیں گے، یہی ہمارا اصول ہے۔

3. میں نہیں کر سکتا
یہ ہمارا ایک نیا سا اصول ہے اور اس کا بہت فائدہ دیکھتی ہوں۔ ہمارے گھر میں I can’t یعنی میں نہیں کر سکتا کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں احمد کو یہ بتاتی ہوں کہ I can’t/میں نہیں کر سکتا تو ہوتا ہی نہیں ہے، I’ll try/میں کوشش کروں گا، ہوتا ہے۔ کوشش بھی پہلی بار شاید کامیاب نہ ہو لیکن ہمیں پھر بھی کوشش کرتے رہنی ہے جب تک ہم وہ کام سیکھ نہ لیں۔ پھر میں اس کو یاد بھی کرواتی ہوں کہ یاد ہے جب آپ پہلی بار تیرنے کے لیے گئے تھے، کنارے پر بیٹھی ماما کی انگلی ہی نہیں چھوڑ رہے تھے۔ اب دیکھیں، کیسے زور سے پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ یاد ہے شروع میں آپ کو پڑھنا مشکل لگتا تھا، اب آپ چھوٹی چھوٹی کتابیں خود ہی پڑھ لیتے ہیں۔ کچھ دن پہلے احمد کے بابا نے اس سے کہا کہ وہ lego نہیں بنا سکتے تو احمد کا جواب تھا: بابا! ہم نے ہمیشہ کوشش کرنی ہوتی ہے۔ پھر ہمیں آ جاتا ہے۔ شروع میں نہ آیا تو کچھ دفعہ کے بعد آپ سیکھ جائیں گے۔ 🙂

سلسلہ بخیر انجام پہنچا۔ بہت مزہ آیا۔ جو باتیں اب تک دل کے نہاں خانوں میں تھیں، سبھی کہہ دیں۔ الحمد للہ! بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اولاد کی بہترین پرورش کرنے والا بنائے، انھیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین