Quran kareem Hifz karne keley chand lazmi baten

Quran kareem Hifz karne keley chand lazmi baten

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

درجہ حفظ کے طلباء کے والدین اور اساتذہ اپنے بچوں اور شاگردوں کے بارے میں پریشان رہتے ہیں ،والدین کو پتہ نہیں ہوتا کہ ان کا بیٹا کتنے عرصہ میں قرآن حفظ کرے گا والدین اکثر جب اپنے بچے سے پوچھتے ہیں کہ اب کونسا پارہ چل رہا ہے تو بچے کا جواب سن اکثر والدین کا یہ سوال ہوتا ہے کہ ابھی تک یہی پارہ چل رہا ہے ،کب ختم ہوگا ؟۔اور بچہ والدین کو مختلف باتیں بتاتا ہے کہ اس مہینہ میں امتحان تھا ،اس مہینہ میں چھٹیاں زیادہ تھیں ،پچھلا یاد نا ہونے کی وجہ سے استاذ نے سبق روکا ہوا ہے ،وغیر وغیرہ
ادھر استاذبھی پریشان ہوتا ہے کہ بچہ پورے سال میں6  سپارے بھی حفظ نہیں کرپارہا اور بچہ کے والدین کو اور بچے کی عدم توجہی کو مورد الزام ٹھراتا ہے ۔نتیجتا بچہ کی عمر قرآن حفظ کرنے میں اتنی خرچ ہوجاتی ہے جتنی کہ نہیں ہونی چاہئے ۔اگر یہ سلسلہ کچھ زیادہ عرصہ چلتا رہے تو بچہ حافظ قرآن بننے کی خواہش ترک کردیتا ہے اور والدین بھی مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
میرے خیال میں اس میں غلطی استاذ اور والدین کی زیادہ ہوتی ہے بجائے بچہ کے ،کیوں کہ بچہ کو پتہ نہیں ہوتا کہ اسے کیا کرنا ہے اورشیطان پورا زور لگاتا ہے کہ بچہ کسی طرح حافظ نا بن جائے ۔اور ویسے بھی بچہ عمر کے اس حصہ میں ہوتا ہے جس میں ذمہ داری با لکل نہیں ہوتی ،عموما دوران حفظ بچہ اپنے والدین سے باغی ہوجاتا ہے جو نہایت خطرنا صورتحال ہوجاتی ہے ۔
ادھر والدین یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں’’ کہ جی ہمیں تو کچھ پتہ نہیں‘‘ بس قاری صاحب آپ کی ذمہ داری ہے اسے حافظ بنانے کی اور قاری صاحب کے لئے بچوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر بچہ کو خصوصی توجہ دینا ممکن نہیں ہوتا لہذا والدین اور استاذ دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بچہ کی عمر کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے بچہ کی مکمل نگرانی کریں تاکہ بچہ کا یہ مشکل ترین سفر آسانی سے کٹ جائے

ہفتہ بھر پہلے کی بات ہے کہ میری اپنے ایک شاگر د( جو کہ دینی ادارہ میں درجہ حفظ کے استاذ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہے ) سے ملاقات ہوئی تو شاگرد نے اپنی کلاس کے بچوں کے حوالہ سے مشاورت کی اور مدد کی درخواست کی تو میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اس سلسلے میں جو ہوسکے گا کروں گا لہذا نہایت غور خوض کے بعد ایک نقشہ ترتیب دیا ہے جس میں والدین اور استاذ دونوں کے لئے راہنمائی موجود ہے

درجہ حفظ کے اساتذہ کے لئے چند ہدایات:
قرآن کریم حفظ کے سلسلہ میں تین چیزیں لازمی ہوتی ہیں (۱) سبق (۲) سبقی(۳) منزل
آپ سبق ، سبقی ،اور منزل کا کوئی بھی ٹائم رکھیں لیکن اسکا ریکارڈ آپ کے پاس ہونا ضروری ہے
مثلا یہ سپارہ کس تاریخ کو شروع ہوا منزل میں کون سا پارہ چل رہا ہے اور ایک پارہ کا نمبر کتنے دن بعد آتا ہے اس طالب علم نے پچھلے مہینہ میں کتنی غیر حاضریاں کی ہیں اور کتنے دن سبق لیاہے

 

Quran kareem Hifz karne keley chand lazmi baten

 

یہ نقشہ آپ کے سامنے ہے جو ان تمام باتوں کا ریکارڈ رکھے گا انتہائی سادہ ہے اور اس میں آپ کو محنت کم سے کم کرنے پڑے گی

نقشہ کو پر کیسے کریں :
یہ نقشہ ہفتہ کے دن سے شروع کرنا ہے اور تاریخ کے خانہ میں ہفتہ کے دن کی پوری تاریخ لکھنی ہے جیسا کہ 19/02/18جمادی الاول
اور پارہ نمبر کے خانہ میں اس پارہ کا نام لکھنا ہے جس میں بچہ کا سبق چل رہا ہے مثلا ’’واعلموا‘‘ یا ’’ پارہ نمبر ۱۰ ‘‘ اور اسی پارہ کے جس صفحہ میں ہفتہ کے دن بچہ کا سبق ہے اس کا نمبر مثلا۲۱۵ آپ کو معلوم ہے ہونا چاہئے کہ بچہ روزانہ کتنا سبق لیتا ہے عموما طلبہ ایک صفحہ پندرہ لائن کے قرآن سے سبق کا یاد کرلیتے ہیں۔

بس ہفتہ کے دن آپ نے یہ کام کرنا ہے اور اس کے بعد آپ نیچے آجائیں تو ہفتہ کے دنوں نام لکھے ہیں اور ہر نام کے نیچے ایک خانہ ہے جس میں اس طالب علم کا منزل کا سپارہ کا نام لکھنا ہے اور اسی خانہ میں ایک چھوٹا سا خانہ اور ہے جس میں اگر اس کو یاد ہے تو آپ نے ’’   ‘‘کا نشان لگانا ہے اور اگر یاد نا ہو تو’’ × ‘‘کا نشان لگا نا ہے اور اس پارہ کو خود سننے کی صورت میں سٹار بنانا ہے اور اسی خانہ میں طالب علم کے غیر حاضر ہونے کی صورت میں’’ غ ‘‘ لکھنا ہے اور جمعرات کے دن درمیان کی تین لائینوں میں پورے ہفتہ کی کیفیت لکھنی ہے جو کہ بعدمیں بطور یاد داشت آپ کے کام آئے گی
ایک صفحہ میں یہ 10 نقشے ہیں جس کا مطلب ہوا 10 ہفتے یعنی ڈھائی مہینے اگر آپ اس نقشہ کو روزانہ کی بنیاد پر لکھتے رہے تو ہر سہ ماہی کے لئے ایک صفحہ ہی کا فی ہوگا اور اس ایک صفحہ میں طالب علم کے ڈھائی مہینے کی ان چیزوں کا ریکارڈ آپ کو حاصل ہوگا
چھ ہفتے اور ڈھائی مہینہ ایک نظر میں
*دن ،ہفتہ ،اور مہینہ کے اعتبار سے بچہ کے سبق کی رفتار* سبق کا ناغہ* کتنے دن سبق بند رہا*کتنا سبق اوسطا لیتا رہا *منزل کا ریکارڈ ترتیب سے آپ کے سامنے ہوگا * کون سا پارہ آپ نے خود سنا *کس دن کسی طالب علم کو سنا یا * منزل کے یاد ہونے ناہونے کی اوسط کیا رہی *پورے ڈھائی مہینہ میں کتنی چھٹیاں کیں ،یعنی کہ ڈھائی مہینہ کی حاضریاں ایک صفحہ میں آپ کے سامنے ہوں گی ۔

والدین کی ذمہ داری
والدین عموما بچہ کے استاذ سے ملنے سے کتراتے ہیں جو کہ غلط بات ہے بچہ کے استاذ سے مہینہ میں کم از کم ایک ملاقات ضرور کرنی چاہیے
تاکہ بچہ کا اچھا برا آپ کے سامنے رہے اور دئے گئے نقشہ کو بچہ کے والدین بھی اپنے پاس رکھے اور اس مین اندراج کرتے رہیں
اسی ترتیب پر یعنی کہ ہفتہ کے دن کی تاریخ کیا ہے اور اسی دن اس کا سبق کس پارہ میں ہے اور اس کا صفحہ نمبر ہے اور نیچے کے خانہ میں والدین بس اس کی غیر حاضریا ں نوٹ کریں ۔جس دن بچہ غیر حاضر ہو اس دن کے نیچے والے خانہ میں ’’ غ ‘‘لکھیں
اور ہر دس ہفتہ ڈھائی مہینہ کے بعد استاذ کے تیار کردہ نقشہ کو اپنے نقشہ سے ملاکر موازنہ کریں اس سے ان شاء اللہ بچہ ڈھائی سال میں قرآن کریم حفظ کر جائے گا

جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ ایک کمزور طالب علم بھی پندرہ لائن والے قرآن سے ایک صفحہ بآسانی یاد کرلیتا ہے ،اس حساب سے اگر نقشہ کو دیکھا جائے تو اس میں ساٹھ دن طالب علم اگر بغیر چھٹے کیئے اپنا سبق لیتا رہے تو تین پارہ حفظ کرلیگا یعنی ٹوٹل دو مہنیہ پندرہ دن میں تین پارے اس حساب سے پانچ ماہ میں چھ پارے بنتے ہیں اور دس ماہ میں بارہ اور سال میں چودہ سپارے لیکن اگر سال بھر کی جمعے کی چھٹیاں سہہ ماہی اور ششماہی سالانہ عید بقر عید کی بھی ملائی جائیں تو اوسط سالانہ بارہ سپارے آرام سے بن جائے گی اور یوں ڈھائی سال کی مدت میں قرآن حکیم آسانی سے حفظ ہوجائے گا

Download form here