محمد کا روضۃ قریب آرہا ہے ،بلندی پہ اپنا نصیب آرہا ہے
فرشتوں یہ دیدو پیغام ان کو کہ خادم تمہارا سعید آرہا ہے
یہ وہ الفاظ تھے جو سب سے پہلے شہید محترم جناب جیند جمشید شہید رحمۃ اللہ علیہ کی آوازمیں میں نے سنے تھے اور یہ الفاظ میرے ان سے غائبانا تعارف کی وجہ بھی بنے بعد میں پتہ چلا کہ بہت ہی عیش و عشرت اور رنگین زندگی کو الوداع کہ کر جبہ اور دستار والوں کی صحبت میں حلال اور حرام کا فرق سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کا زندگی بھر کا ارادہ لے کر شہرت کا یہ ستارہ گمنامی سے ڈرے بغیر آخرت کی چاہت لئے مولانا طارق جمیل صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہے
،خدا کی قدر دانی دیکھیئے نا عزت چھینی نا شہرت، عزت وہ دی جو دائمی بن گئی، شہرت ایسی دی کہ شہرت بھی اس شہرت پر حیران رہ گئی ۔
اپنے عزم اور ارادہ کی پختنگی کو دنیا پر ثابت کر گیا اور بتا گیا کہ عزت اور شہرت خدا کو راضی رکھ کر بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔عقلمندوں کےلئے جیند جمشید کی زندگی ایک اچھا نمونہ ہے بس عزم و ھمت جیند جیسا ہو۔
اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔