شداد لعین کا قصہ:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکثر مورخین حضرات نے شداد کا ذکر بھی حضرت ہود علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ کیاہے چونکہ وہ بھی قوم عاد سے تھا اور قوم عاد ہی کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا۔ اس کے قصے کو قصص الانبیاء میں اس سبب بیان کیا گیا کہ اہلِ ایمان کو عبرت حاصل ہو اور اللہ پاک کی قدرتوں پر یقین واثق ہو۔

عاد کے دو بیٹے تھے "شدید" اور "شداد"۔ دونوں بادشاہ تھے۔ شدید تو تقریبا" سات سو برس تک بادشاہی کر کے مر گیا اور اسکے بعد شداد ملعون بادشاہ ہوا۔ جہاں تک اسکی بادشاہت تھی اسی کا حکم چلتا تھا، اسکو صرف حکومت سے غرض تھی اور وہ اسمیں ہی خوش تھا۔ اسکے ماننے والے اگرچہ کفروشرک میں مبتلا تھے لیکن اسکے عدل کی وجہ سے شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پیتے تھے۔ اسکے انصاف کا ایک قصہ ہے کہ دو شخص اسکے محکمہ عدالت میں آۓ اور اپنے عجیب احوال سناۓ۔ 

ایک شخص بولا میں نے اس سے زمین خریدی ہے اور پوری قیمت دیکر اس پر قبضہ کیا اب اس زمین میں سے خزانہ ملا ہے وہ میں اسکو دیتا ہوں اور یہ نہیں لیتا کہتا ہے کہ میں نے زمین بیچی ہے اب وہ خزانہ نہیں لے سکتا، اور میں بھی وہ خزانہ نہیں لے سکتا کیونکہ میں نے زمین خریدی ہے نہ کہ خزانہ۔ حاکم نے پوچھا کیا تم دونوں کی کوئی اولاد ہے، وہ بولے کہ ہاں! ایک کا بیٹا اور ایک کی بیٹی ہے۔ حکم کیا دونوں کی شادی کر دو اور یہ خزانہ انکو دے دو، یا اسکے دو حصے کر کے آدھا آدھا لے لو۔ ایسے انصاف سے اس نے اپنے تئیں دنیا میں نیک نام کیا۔

جب حضرت ہود علیہ السلام کو اسکی ہدایت کے لئے اور ایمان کی دعوت کے لئے بھیجا گیا تو انہوں نے بہت کوشش کی اور اسکو حق کی دعوت دیتے رہے لیکن وہ ایمان نہ لایا اور کافرومشرک مرا۔ 

حضرت ہود علیہ السلام نے جب اسکو ایمان کی دعوت دی تو وہ کہنے لگا کہ اگر میں تمہارا دین قبول کر لوں تو مجھے اسکا کیا فائدہ ہو گا؟ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کے عوض اللہ پاک تجھے بہشت عنایت کرے گا اور تجھ پر اپنا فضل و مہربانی اور رحمت فرماۓ گا، اور اسطرح کا بہت سے اچھی باتیں بتائیں جو آخرت میں اسکے واسطے نجات کا سبب بن سکتی تھیں لیکن اس ملعون پر ان بھلی باتوں کا کچھ اثر نہ ہوا اور کہنے لگا کہ تو مجھے بہشت کی بہت طمع دلاتا ہے اور صفات بیان کرتا ہے میں بھی اس دنیا میں اس جیسی ایک بہشت بناؤںگا اور دن رات عیش و عشرت کرونگا مجھے تیرے خدا کی بہشت کی کچھ حاجت نہیں۔

اس مکالمے کے بعد اس ملعون نے اسی وقت ہر اس ملک کے بادشاہوں کو خط لکھے جو اسکے تابع تھے اور خط میں لکھا کہ تمہارے ملک میں جس جگہ زمین ہموار ہو اور نشیب و فراز والی نہ ہو اسکی اطلاع ہمکو جلد کرو ہم اسمیں بہشت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اسکے بعد اپنے قاصد ہر جگہ بھیجے تاکہ ہر علاقے کا سونا، چاندی اور جواہرات لیکر آئیں یہ بھی کہا کہ جتنے بھی مشک و عنبر ہاتھ آئیں وہ بھی لیتے آئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت شداد کے زیرِ حکم بہت سے ملک اور بڑے بڑے شہر تھے بہت ہی جستجو کے بعد خطہ عرب میں ایک قطعہ زمین ملی جسکی مسافت چالیس فرسنگ تھی کئی استادوں اور انکے کاریگروں نے ملکر اسکی پیمائش کی اور سارا خزانہ وہاں لا کر جمع کیا گیا سب سے پہلے سنگ مرمر سے بنیاد بہشت کی رکھی گئی اور اسکی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنائی گئیں، چھت اور ستون زبرجد اور زمرد سبز سے بناۓ گئے۔ چنانچہ حق تعالٰی نے حضرت رسالتِ پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شداد لعین کی بہشت کے حال سے اور ستونوں سے اسکی خبر دی کہ دنیا میں کسی نے ایسی بہشت نہیں بنائی، اللہ تعالٰی فرماتا ہے " الم ترکیف فعل ربک بعادہ ارم ذات العمادہ التی لم یخلق مثلھا فی البلادہ" ترجمہ: کیا تو نے نہیں دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد سے جو ارم سے بڑے ستون بناتے تھے جو کسی شہر میں ویسا بنا نہیں۔

یعنی عاد ایک قوم تھی اور ارم اسمیں ایک قبیلہ تھا وہ اونچی عمارتیں بناتے ، اس بہشت کی صفات یہ ہیں کہ درخت اسمیں نصف سونے اور نصف چاندی سے بناۓ تھے اور وہاں نواع و اقسام کے میوے تھے بجاۓ خاک کے اسمیں مشک و عنبر زعفران سے پر کئے تھے اور بجاۓ پتھر کے اس صحن میں موتی اور مونگا ڈالتے تھے اور نہریں اسمیں شیر و شراب کی جاری تھیں اور بہشت کے دروازے پر چار میدان بنواۓ اور ان میں اشجار میوہ دار لگاۓ تھے، ہر میدان میں بہت سی کرسیاں سونے اور چاندی کی بچھی تھیں ہر کرسی کے سامنے بہت سی کھانے کی نعمتیں تھیں۔

یہاں تک کہ تین سو برس میں اس بہشت کا سر انجام ہوا۔ وکیلوں کو ہر ملک میں بھیجا کہ سکہ بھر چاندی کسی ملک میں نہ چھوڑو سب اس بہشت میں لا کر رکھ دو آخر یہ نوبت پہنچی ایک بوڑھی عورت کے ساتھ ایک یتیم بچی تھی جسکے گلوبند میں ایک سکہ چاندی تھی ، ظالموں نے اسے بھی نہ چھوڑا ، وہ بچی روتی رہی کہ میں مسکین ہوں اسکے سوا میرے پاس کچھ نہیں ، یہ مجھے بخش دو مگر انہوں نے کچھ نہ سنا ، تب اس نے بارگاہِ الٰہی میں فریاد کی اور اس ظالم کے شر سے پناہ مانگی اور کہا کہ اے مالک ! اسکا انصاف کر اور اسکے پروردگار نے دعا قبول فرمائی ، مصداق اس حدیث کے" قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم تقوا دعوۃ المظلوم فانھا مقبول" ترجمہ: پرہیز کرو مظلوم کی بد دعا سے بیشک وہ مقبول ہوتی ہے۔

شداد نے ملک کے سارے خوبصورت اور حسین لڑکے لڑکیاں جمع کیں تاکہ وہ مانند حورو غلمان بہشت میں اسکی خدمت میں رہیں، کئی سالوں تک وہ کافر ارادہ کرتا رہا کہ جا کر بہشت دیکھے لیکن اللہ پاک کو منظور نہ تھا کہ وہ اپنی بنائی ہوئی بہشت میں جاۓ۔

ایک روز کمال خواہش سے دو سو غلام ساتھ لیکر بہشت دیکھنے گیا جب وہ بہشت کے نزدیک پہنچا تو اس نے اپنے غلاموں کو چاروں میدانوں مین بھیجا اور ایک غلام کیساتھ بہشت میں داخل ہونے لگا تھا کہ بہشت کے دروازے پر ایک شخص کو کھڑا ہوا دیکھا اس سے پوچھا تُو کون ہے؟ اس نے کہا میں ملک الموت ہوں۔ شداد نے پوچھا تو یہاں کیا کیوں آیا ہے؟ ملک الموت نے جواب دیا کہ میں تیری جان قبض کرنے آیا ہوں۔ شداد بولا مجھے ذرا مہلت دے دو تا کہ میں اپنی بنوائی ہوئی بہشت کو دیکھ لوں۔ ملک الموت نے کہا کہ خدا کا حکم نہیں ہے کہ تو اسے دیکھے کیونکہ تو دوزخ کا حقدار ہے اور وہیں جاۓ گا تب اسی حالت میں کہ اسکا ایک پاؤں گھوڑے کی رقاب پر تھا اور دوسرا بہشت کے دروازے پر اور اسکی جان قبض کر لی گئی اور وہ مردود بہشت نادیدہ دوزخی ہوا ۔

ایک فرشتے نے آسمان سے ایسی سخت آواز کی کہ اسکے سب ساتھی ہلاک ہو گئے اور وہ سب دوزخی ہو گئے ، اسکی بہشت کو زمین کے نیچے دبا دیا کہ قیامت تک اسکا کچھ اثر باقی نہ رہے ، بعد میں اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔

بحوالہ قصص الانبیاء