حضرت حسن رضی الله کا بیان چل رہا تھا. بقیہ حصہ ……..

نوٹ جنگ جمل اور جنگ صفیں دونوں کو یہی بیان کر دیا گیا ہے ویسے تو یہ جنگ حضرت علی رضی الله کی خلافت میں ہووی لیکن حضرت علی رضی الله کے خلافت کو بیان کرتے ہووے میں نے اس مضمون کو نہیں چھڑا کیونکے اس وقت میں نے مناسب نہیں سمجھا یہاں مناسب اس وجہ سے سمجھا تا کہ اگے حضرت حسن رضی اور حضرت معاویہ رضی کو خلافت سونپ دیتے ہیں .حضرت علی رضی الله اور حضرت امیر شام معاویہ رضی الله کے آپس میں بہت اختلاف رہے تھے بہت کیا تمام خلافت اختلاف میں گزری باغی لوگوں کی وجہ سے :



پچھلے مضمون میں جنگ جمل کی ہڈنگ نہیں دی حضرت عثمان غنی رضی الله کی شہادت کے بعد جنگ جمل کا واقعہ ہے اور جنگ جمل کے بعد حضرت علی رضی الله اور حضرت معاویہ رضی الله کے درمیاں جنگ ہووی جسکو جنگ صفیں کہا جاتا ہے جنگ صفیں کس وجہ سے ہووی اسکی وجہ بھی حضرت عثمان غنی رضی الله کا قصاص لینا تھا یہاں ایک بات کی مختصر وضاحت کر دوں کے جنگ جمل اور جنگ صفیں میں صحابہ کرام رضی الله کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں تھا کیونکے اگر ذرا غور کرو تو 

فاروق اعظم رضی الله کے بعد حضرت عثمان کے عہد خلافت میں فتنہ و فساد شروع ہوا تو حضرت علی رضی نے ان کو رفع کرنے کے لئے ان کو نہایت مخلصانہ مشورے دیے ،ایک دفعہ حضرت عثمان رضی الله نے ان سے پوچھا کہ ملک میں موجودہ شورش وہنگامہ کی حقیقی وجہ اوراس کے رفع کرنے کی صورت کیاہے؟ انہوں نے نہایت خلوص اورآزادی سے ظاہر کردیا کہ موجودہ بے چینی تمام تر آپ کے عمال کے بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہے،حضرت عثمان رضی الله نے فرمایا کہ میں نے عمال کے انتخاب میں انہی صفات کو ملحوظ رکھا ہے جو فاروق اعظم کے پیش نظر تھے، پھر ان سے عام بیزاری کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی؟ جناب علی مرتضی رضی الله نے فرمایا ہاں! یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر نے سب کی نکیل اپنےہاتھ میں لے رکھی تھی اور گرفت ایسی سخت تھی کہ عرب کا سرکش سے سرکش اونٹ بھی بلبلااٹھا برخلاف اس کے آپ ضرورت سے زیادہ نرم دل ہیں، آپ کے عمال اس نرمی سے فائدہ اٹھا کر من مانی کارووائیاں کرتے ہیں اورآپ کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی، رعایا سمجھتی ہے کہ عمال جو کچھ کرتے ہیں وہ سب دربارِ خلافت کے احکام کی تعمیل ہے، اس طرح تمام بے اعتدالیوں کا ہدف آپ کو بننا پڑا۔حضرت علی رضی الله کے گمان مین بھی نہیں تھا کے نوبت یہاں تک آجائیگی لیکن پھر بھی حضرت علی رضی الله حضرت عثمان غنی کے ساتھ تھے اور بطور احتیاط اپنے پیارے بیٹوں کو کو سیکورٹی دینے کے لئے بھجا اور حسن رضی الله نے بہت طاقت سے باغیوں کا مقابلہ کیا لیکن باغی پہلے سے پلاننگ پر تھے حسن رضی بہت شدید زخمی ہووے حضرت علی رضی الله نے ہر گز عثمان رضی الله کے خلاف نہیں تھے اگر حضرت علی رضی الله حضرت عثمان غنی کے خلاف ہوتے تو حضرت حسن رضی الله کو ہر گز نہیں بہجتے اور پھر جنگ جمل میں حضرت علی رضی الله اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امت کی ماں یہ آپس میں لڑنے کے لئے ہر گز نہیں نکلے تھے اسکی جنگ کی وجہ یہی تھی کے عثمان غنی رضی الله کے قاتلوں کو مارا جائے اور حضرت عثمان غنی رضی الله کے قاتل وہ باغی لوگ تھے جنہوں نے حضرت علی رضی الله کو گھیر ہ ہوا تھا پچھلے مضمون میں حضرت حسن رضی الله کا حضرت علی رضی الله کو مشورہ دینا آپ لوگوں نے پھڑا ہوگا حضرت علی رضی الله کو باغیوں نے گھیر رہکا تھا جب کہ حسن رضی نے اپنے والد سے کہا تھا کے اپ چلے جائیں اور وہی باغی لوگوں نے حضرت علی رضی کو پھسا کر رہکا طرح طرح سے ذہنی طور پر حضرت علی رضی کو پریشان کیے جارہے تھے. تو جنگ جمل بھی انہی باغیوں کو مارنے کے لئے ہووی تھی جنہوں نے حضرت علی رضی کو گھیر رہکا تھا اور جنگ صفیں کی وجہ بھی یہی لیکن جنگ صفیں میں ایک طرف حضرت معاویہ رضی الله اور دوسرے طرف حضرت علی رضی الله تھے یہ جنگ ان دونوں اکابر صحابہ کی نہیں تھی بلک یہ جنگ بھی انہی باغیوں کو مارنے کے لئے ہووی 

باغی وہ لوگ تھے جو اپنی پلاننگ میں کامیاب ہووے عثمان غنی رضی الله کو شہید کیا اور حضرت علی رضی کو بلیک میل کرتے رہے ویسے تو جنگ جمل اور جنگ صفیں کے حالات پر بہت وقت لگ سکتا ہے لیکن ہم نے ان دونوں جنگ کا موقف بیان کر دیا ہے صحابہ کرام رضی الله کے آپس میں کوئی اختلاف نہ تھے اور نہ ہی تو صحابہ ایک دوسرے دشمن تھے ..



یہاں مزید ایک بات کی وضاحت کرنا چاہونگا کے حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت میں سب سے بہترین خلافت کا دور عہد صدیقی اور عہد فاروقی رضی الله کا دور تھا …



اب 

اگے کی طرف چلتے حضرت حسن رضی الله کی بیعت لی اوربیعت کے بعد حسب ذیل تقریر ارشاد فرمائی:

لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص بچھڑا ہے کہ نہ اگلے اس سے بڑھ سکے اورنہ پچھلے اس کو پاسکیں گے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اپنا علم مرحمت فرما کر لڑائیوں میں بھیجتے تھے وہ کبھی کسی جنگ سے ناکام نہیں لوٹا۔

میکائیل اورجبرائیل علیہ السلام چپ وراست اس کے جلو میں ہوتے تھے اس نے ساتھ سودرہم کے سوا جو اس کی مقررہ تنخواہ سے بچ رہے تھے،سونے چاندی کا کوئی ذرہ نہیں چھوڑا ہے یہ درہم بھی ایک خادم خریدنے کے لئے جمع کئے تھے،

اس بیعت اورتقریر کے بعدا ٓپ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے۔

(ابن سعد،جز۳،ق اول، ذکر علی،حاکم نے مستدرک میں بھی اس کو خفیف تغیر کے ساتھ نقل کیا ہے)



امیر معاویہ کا جارحانہ اقدام

امیر شام معاویہ رضی الله کو یہ معلوم تھا کہ حسن رضی الله صلح پسند ہیں اور جنگ و جدال وہ دل سے ناپسند کرتے ہیں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ حضرت حسن رضی الله کو قتل وخونریزی سے شدید نفرت تھی اوراس قیمت پر وہ خلافت لینے پر آمادہ نہ تھے؛چنانچہ آپ نے پہلے ہی یہ طے کرلیا تھا کہ اگر اس کی نوبت آئی تو امیر معاویہ رضی الله سے اپنے لئے کچھ مقرر کراکے خلافت سے دست بردار ہوجائیں گے۔

(طبری:۷/۱)

امیر معاویہ رضی الله کو ان حالات کا پورا اندازہ تھا اس لئے حضرت علی رضی الله کی شہادت کے بعد ہی انہوں نے فوجی پیش قدمی شروع کردی اورپہلے عبداللہ بن عامر کریز کو مقدمہ الجیش کے طور پر آگے روانہ کردیا،یہ انبار ہوتے ہوئے مدائن کی طرف بڑھے۔

حضرت علی رضی کی شہادت ہوچکی تھی اب حضرت معاویہ رضی الله اور حسن رضی الله کا دور ہے 



مقابلے کے لئے آمادگی اور پھر واپسی 

حضرت حسن رضی الله اس وقت کوفہ میں تھے آپ کو عبداللہ بن عامر کی پیش قدمی کی خبر ہوئی تو آپ بھی مقابلہ کے لئے کوفہ سے مدائن کی طرف بڑھے، ساباط پہنچ کر اپنی فوج میں کمزوری اورجنگ سے پہلو تہی کے آثار دیکھے اس لئے اسی مقام پر رک کر حسبِ ذیل تقریر کی:

"میں کسی مسلمان کے لئے اپنے دل میں کینہ نہیں رکھتا اور تمہارے لئے بھی وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں،تمہارے سامنے ایک رائے پیش کرتا ہوں، امید ہے کہ اسے مسترد نہ کروگے جس اتحاد ویکجہتی کو تم ناپسند کرتے ہو وہ اس تفرقہ اوراختلاف سے کہیں افضل و بہتر ہے،جسے تم چاہتے ہو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر اشخاص جنگ سے پہلو تہی کررہے ہیں اور لڑنے سے بزدلی دکھا رہے ہیں میں تم لوگوں کو تمہاری مرضی کے خلاف مجبور کرنا نہیں چاہتا"

یہ خیالات سن کر لوگ سناٹے میں آگئے اورایک دوسرے کا منہ تکنے لگے،اگرچہ کچھ لوگ جنگ سے پہلو تہی کررہے تھے تاہم بہت سے خارجی عقائد کے لوگ جو آپ کے ساتھ تھے وہ معاویہ رضی الله مقابلہ کے لئے آمادگی اور واپسی سے لڑنا فرض عین سمجھتے تھے،انہوں نے جب یہ رنگ دیکھا تو حضرت علی رضی الله کی طرح حضرت حسن رضی الله کو بھی برا بھلا کہنے لگے اوران کی تحقیرکرنی شروع کردی اورجس مصلیٰ پر آپ تشریف فرماتے تھے حملہ کرکے اسے چھین لیا اورپیراہن مبارک کھسوٹ کر گلے سے چادر کھینچ لی حضرت حسن رضی الله نے یہ برہمی دیکھی تو گھوڑے پر سوار ہوگئے اور ربیعہ و ہمدان کو آوازدی انہوں نے بڑھ کر خارجیوں کے نرغہ سے چھڑایا اورآپ سیدھے مدائن روانہ ہوگئے راستہ میں جراح بن قبیصہ خارجی حملہ کی تاک میں چھپا ہوا تھا، حضرت حسن رضی الله جیسے ہی اس کے قریب سے ہوکر گزرے اس نے حملہ کرکے زانوئے مبارک زخمی کردیا، عبداللہ بن خطل اورعبداللہ بن ظبیان نے جو امام کے ساتھ تھے جراح کو پکڑکر اس کا کام تمام کردیا اورحضرت حسن رضی الله مدائن جاکر قصر ابیض میں قیام پذیر ہوگئے اورزخم بھرنے تک ٹھہرے رہے،شفایاب ہونے کےبعد پھر عبداللہ بن عامرکے مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے 



اس دوران میں امیر معاویہ رضی الله بھی انبار پہنچ چکے تھے اور قیس بن عامر کو جو حضرت حسن رضی الله کی طرف سے یہاں متعین تھے گھیرلیا تھا ادھر معاویہ رضی الله نے قیس کا محاصرہ کیا دوسری طرف حضرت حسن رضی الله اورعبداللہ ابن عامر بالمقابل آگئے،عبداللہ اس موقع پر یہ چال چلا کہ حضرت حسن رضی الله کی فوج کو مخاطب کرکے کہا کہ عراقیو! میں خود جنگ نہیں کرنا چاہتا،میری حیثیت صرف معاویہ رضی الله کے مقدمۃ الجیش کی ہے اور وہ شامی فوجیں لے کر خود انبار تک پہنچ چکے ہیں، اس لئے حسن رضی الله کو میرا سلام کہہ دو اورمیری جانب سے یہ پیام پہنچا دو کہ ان کو اپنی ذات اوراپنی جماعت کی قسم جنگ ملتوی کردیں عبداللہ بن عامر کا یہ افسوں کار گر ہوگیا،حضرت حسن رضی الله کے ہمراہیوں نے اس کا پیام سنا تو انہوں نے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھا اور پیچھے ہٹنے لگے، حضرت حسن رضی الله نے اسے محسوس کیا،تو وہ پھر مدائن لوٹ گئے۔ 



حضرت حسن رضی الله اورامیر معاویہ رضی الله ی صلح 

حضرت حسن رضی الله اورامیر معاویہ رضی الله کی مصالحت کے بعد عمرو بن العاص رضی الله نے جو امیر معاویہ رضی الله کے ہمراہ تھے ان سے کہا کہ مناسب یہ ہے کہ مجمع عام میں حسن رضی الله سے دستبرداری کا اعلان کرادو، تاکہ لوگ خود ان کی زبان سے اس کو سن لیں،مگر امیر معاویہ رضی الله مزید حجت مناسب نہ سمجھتے تھے،اس لئے پہلے اس پر آمادہ نہ ہوئے مگر جب عمرو بن العاص رضی الله نے بہت زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے حضرت حسن رضی الله سے درخواست کی کہ وہ برسر عام دستبرداری کا اعلان کردیں،امیر معاویہ رضی الله کی اس فرمایش پر حضرت حسن رضی الله نے مجمع عام میں حسب ذیل تقریر فرمائی:

اما بعد لوگو خدا نے ہمارے اگلوں سے تمہاری ہدایت اورپچھلوں سے تمہاری خونریزی کرائی دانائیوں میں بہتر دانائی تقویٰ اورکمزوریوں میں سب سے بڑی کمزوری بداعمالیاں ہیں ،یہ امر (خلافت) جو ہمارے اور معاویہ رضی الله کے درمیان متنازعہ فیہ ہے یا وہ اس کے حقدار ہیں یا میں دونوں صورتوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اصلاح اور تم لوگوں کی خونریزی سے بچنے کے لئے میں اس سے دستبردار ہوتا ہو

(اسدالغابہ:۲/۱۴،واستیعاب:۱/۱۴۴)



اس خاتم الفتن دست برداری کے بعد حضرت حسن رضی الله اپنے اہل وعیال کو لے کر مدینۃ الرسول چلے گئے،اس طرح آنحضرت کی یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی کہ میرا یہ بیٹا سید ہے خدا اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے جماعتوں میں صلح کرائے گا۔



الله سے دعا کرتا ہوں یا الله مجھے سے کوئی خطا ہووی ہو تو مجھے معاف کر دینا آمین .



اپنا عقیدہ بتا دوں جو میں یہاں وضاحت کر چکا ہوں 



ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امت کی ماں ہے اس طرح سے حضرت علی رضی الله بھی حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تھے اور جب حضرت علی رضی الله حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہووے تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہووے کیونکے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت محمّد کی زوجہ مبارک تھی ..اور امت کی ماں ..



حضرت علی رضی الله اور حضرت ممعاویہ رضی الله بھائی بھائی تھے کیونکے انکا ذاتی کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن حضرت علی رضی الله کا درجہ حضرت معاویہ رضی سے بالا تر ہے .

اور حضرت حسن رضی الله جنکے بارے میں حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کی حدیث تھی تو اسی وجہ سے ہم کسی کو بھی غلط نہیں کہتے بلکہ یہاں حضرت حسن رضی الله جو شاندار کارنامہ سر انجام دیا یہ تاریخ میں ہمیشہ چمکتا رہیگا ….